سب سے پہلے گلگت بلتستان … معذرت کے ساتھ۔۔


 

چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور کانفرنس گلگت میں پاکستانی عسکری قیادت نے گلگت کو ارمچی بنانے کا اعلان کر کے چلے گے، گلگت کو ارمچی بنائیں گے یا نہیں یہ تو وقت بتائے گا ابھی گلگت بلتستان کے عوام کو صرف “چ *** ” بنا کر ٹوپی پہنا کر چلے گے۔

ccc
جو توقعات گلگت بلتستان کے عوام کی پاکستانی عسکری قیادت سے تھی اس پر پانی پیھر چکا ہے۔ کیونکہ عوام کو ایسا لگتا تھا کہ آرمی چیف سی پیک منصوبے میں گلگت بلتستان کے چار ضلعوں میں اکنامک زون اور انڈسٹریل زون بنانے، علاقے کو ٹیکس فری زون قرار دینے اور علاقے کے عوام کو آئین پاکستان کے دائرے میں لانے کے اعلان کا منتظر کر رہے تھے۔
جاتے جاتے یہ حکم بھی صادر کر کے چلے گئے کہ کوئی راضی ہو یا نہیں ہم سی پیک کو ہر صورت بنا کر دم لینگے چاہئے اس کے لیے کچھ بھی کرنا پڑے۔ تو اس پیغام کو گلگت بلتستان کی عوام کس انداز میں سمجھ لیں۔ ( اشارہ شاید عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کی طرف تو نہیں ) یا پھر ہم جو دینگے اس پر گزارا کر لو اسی میں بہتری ہے اپ لوگوں کی۔

13625400_1123309774374170_1502132236112469026_n
یہ علاقہ تو 1948 میں پاکستانی پالسیوں کی وجہ سے زبردستی متنازعہ بنایا گیا ہے تو اس کو آپ کس آئین ہے تحت ارمچی بنارہے ہو۔
پہلے یہاں کے عوام کے بنیادی حقوق تو پورے کرو ارمچی بعد میں بناؤ گے۔۔ ارے صاحب میں کہتا ہوں پاکستان کو آزاد ہوئے 70 سال ہوئے ہیں فیصل اباد اور سیالکوٹ جو اپ کراچی کے بعد اپ کی صنعت کو سہارا دیتے ہیا ان شہروں کو ارمچی شہر جیسا نہیں بنا سکے تو گلگت کو کیا خاک 5 سالوں میں ارمچی بناوں گے۔

14237768_1099465533470793_1584458978109382951_n
ہاں البتہ یہ ضرور ہے کہ سی پیک سے گلگت بلتستان کے عوام کو کچھ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں SCO , FWO اور NLC کیتو عید ضرور ہوگی .
حسب روایت گلگت بلتستان کے مقامی صحافیوں کو اس کانفرنس میں نظرانداز کیا کیا تاکہ کوئی مقامی صحافی سوال نہ کر سکیں۔اور وفاق سے میڈیا کے لوگ بلائے گئے۔

سی پیک پروجیکٹ میں گلگت بلتستان کے حصے میں قاری حفیظ اور اسکی ٹیم آئی ہے اسکے علاوہ حق مانگنے والوں کے حصے میں غداری اور دہشتگردی کے مقدمات سمیت عمر قید کی سزا بھی موجود ہے۔ اگر گلگت بلتستان کا باشندہ ان تلخ حقائق کا اظہار اور اپنے حقوق کی بات کریں تو اسے بیرونی سازشوں کا الہ کار ، مودی کا یار قرار دینے اور غداری کا مقدمہ درج ہونے میں وقت نہیں لگتا۔۔۔ 

14141717_1262584710426746_3882623037343325313_n
سب سے پہلے گلگت بلتستان۔
#iStandWithAwamiActionCommittee #WeWantRights #
#CPEC #GilgitBaltistan
#Pakistan #Raheelsharif #COAS

پاکستان کے مختلف علاقوں سےگلگت بلتستان میں جوسیاح مہمان بن کر علاقے کی خوبصورتی دیکھنے آتے ہیں ان کی تفریح اور ویڈیو بنانے کے شوق کے نتیجے میں اس کے سال بھر کی کمائی کے لٹنے کی شکایت کس سے کرے


علی یارشاہراہ قراقرم پر واقع ضلع نگرکا باسی ہے ان کی آمدنی کا ذریعہ زراعت ہے چند کنال زمین پر واقع کھیت ،خوبانی اور سیب کے چند درخت سے حا صل پھلوں کو فروخت کرکے وہ کنبے کا اخراجات پورا کرتا ہے۔ معمول کے مطابق گزشتہ روز جب وہ اپنی باری والے روز گھر سے دور شاہراہ قراقرم کے پاس واقع زمین پر پودوں اور چراگاہ کو پانی دینے گیا تو اس کی نظر خوبانی کے درختوں پر پڑی پھل پک کر تیار ہو چکے تھے انھوں نے دو دن کے اندر دیگر کاموں سے فرصت نکال کر خوبانی کے پھل اتارنے اور انھیں خشک کرکے پھٹور(خشک خوبانی) بنانے کا فیصلہ کر لیا۔ کیونکہ تاخیر کی صور ت میں پھل خراب ہونے کا خدشہ تھا چنانچہ دو دن بعد جب وہ اپنے کنبے کے افراد کے ساتھ صبح سویرے خوبانی کا پھل اتارنے آیا تو ان کی حیرت کی انتہاء نہ رہی۔

14751510300_c0cc02845f_zان کی پچپن سالہ زنگدی کبھی ایسا منظر نہیں دیکھا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ان کے درختوں سے خوبانی کے تمام پھل زمین گرے ہوئے تھے اور ان کو پاوں اس بری طرح روندا گیا تھا کہ وہ پھٹور (خشک خوبانی)تو کجا جانوروں کے کھانے بھی قابل نہیں رہے تھے۔ وہ اور اس کے کنبے کے افراد افسردہ حالت میں واپس گھر آگئے ان کی سمحھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کس نے یہ سب کیاہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

علی یار دن کے وقت بیاک میں بیٹھک کے دوران گاوں کے دیگر افراد کو بھی یہ ماجرا سنا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سب ہی حیرت سے ان کا منہ تک رہے تھے کیونکہ علاقے کی روایات کے مطابق خوبانی سمینت تمام پھل کہیں سے اتار کر کھائے جا سکتے ہیں لیکن انھیں تقصان پہنچانا یا ضائع کرنا جرم ہے۔ کسی کے پاس اس بات جواب نہیں تھا کہ کس نے اور کیوں خوبانی کے پھل ضائع کئے ہیں؟

apricot-tree-300x298

رات کو جب وہ گھر آیا تو ان کے ہمسایہ محلے سے لسی لینے گھر آئے ہوئے دو بچوں نے علی یار کو بتایا کہ دوپہر کے وقت جب وہ اپنی چراگاہ سے جانوروں کو چراکر واپس آرہے تھے تو انھوں نے دیکھا کہ تین ویگنوں سوار کچھ سیاح آئے انھہوں نے سڑک کے کنارے گاڑیاں کھڑی کیں پہلے وہ خوبانی کے درختوں کے سائے میں آرام کرنےلگے موبائل سے تصاویر اور ویڈیوز بنانے رہے پھرخوبانی کے درخت چڑھ کر خوبانی کھانے لگے اس دوران سیاحوں میں شامل کچھ منچلوں نے عجیب حرکات شروع کیں انھہوں نے ایک چادر کو چار کونوں سے پکڑ کر خوبانی کے درخت کی شاخیں ہلا کر پھل نیچے گراتے اور خوبانی کے پھل چادر میں گرنے کا منظر اپنے موبائل میں محفوظ کرتے رہے جب چادر پھلوں سے بھر جاتا وہ اسے زمین پر پھینک دیتے اور دبارہ باری باری یہ عمل دہراتے رہے اور تھوڑی دیر بعد اپنی گاڑیوں میں سوار ہوکر چلے گئے۔ یہ تمام ماجرا سننے کے بعد علی یار حیران رہ گیا ان کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ ملک عزیز پاکستان کے مختلف علاقوں سے ان کے علاقے میں جوسیاح مہمان بن کر علاقے کی خوبصورتی دیکھنے آتے ہیں ان کی تفریح اور ویڈیو بنانے کے شوق کے نتیجے میں اس کے سال بھر کی کمائی کے لٹنے کی شکایت کس سے کرے؟؟؟؟؟

5551c94f74351.jpg

بارشں، سیلاب اورگلگت بلتستان کے عوام


12919806_1140265875992272_2227406155541449069_n
رابطہ سڑکیں بند ہونے کی وجہ سے مریضوں کو ایمبولینسوں کی بجائے لاشوں کی طرح چارپائیوں پر لاد کر 50 کلومیٹر سے بھی زیادہ کا سفر پیدل طے کر کے ہسپتالوں تک پہنچآیا جاریا ہے

Photo Credits : PAMIR TIMES

بارشوں، سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے سے جن مسائل کا گلگت بلتستان کے عوام اس وقت شکار ہے ان مسائل کے حل کے لیے وفاق

اور صوبائی حکومتوں نے ابھی تک کوئی خاطر خواہ اقدام نہیں اٹھایا کیونکہ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حفیظ الرحمن صاحب ، جناب میاں شہباز شریف کے نقش قدم پر چلتے ہوئے صرف فوٹو شیشن کے لیے اوشکنداس میں اپنے نقاب پوش محافظوں کے ساتھ دبنگ آنٹری دی پهر اس کے بعد غائب .
مریضوں کو ہسپتال ا اور گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں پهنسے ہوئے سیاحوں کو محفوظ مقامات تک پہنچا نے کے لئے کسی ایمرجنسی آپریشن کاابھی تک آغاز نہیں کیا گیا.
4دنوں سے گلگت بلتستان کے تمام ضلعوں کا ایک دوسرے ذمینی اور پاکستان سے زمینی اور فضائی رابطہ منقطع ہے
گلگت بلتستان کے مختلف مقامات پر مٹی کے تودے گرنے اور سیلاب کی وجہ سے رابطہ سڑکیں بند ہوگئی ہیں ، کهیتوں میں کهڑی فصلیں تباہ ہوئی ہیں ، ہزاروں پهل دار اور غیر پهل دار درختوں کو نقصان پہنچا ہے . کسانوں کی جمع پونجی بارشی کے پانی کے ساته بہہ گی ہے.
رابطہ سڑکیں بند ہونے کی وجہ سے مریضوں کو ایمبولینسوں کی بجائے لاشوں کی طرح چارپائیوں پر لاد کر 50 کلومیٹر سے بھی زیادہ کا سفر پیدل طے کر کے ہسپتالوں تک پہنچآیا جاریا ہے . چپورسن ، ہسپر ، اورلڈنگ اور منی مرگ جیسے درجنوں دور افتادہ علاقوں میں خوراک اور دوائیوں کی قلت کی بهی اطلاعات آرہی ہیں.
بجلی کا نظام درہم برہم ہونے سے پورا گلگت بلتستان تاریکی میں ڈوب چکا ہے جس کی وجہ سے موسلاتی نظام بهی شدید متاثر ہوا ہے. پاکستان اور دنیا بهر میں بسنے والے گلگت بلتستان کے باسیوں کا پچھلے 3دنوں سے رابطہ نہیں ہو پا رہا جس کی وجہ سے وہ سخت پریشان ہیں.

12439095_1580631858919292_634696587840547517_n.jpg
پاکستانی میڈیا اپنی ریٹنگ کے چکر میں ان سیلاب زدگان کے مسائل کو اجاگر کرنے کی بجائے پنامہ پچامہ اور کرکٹ کے خبروں میں مصروف ہیں. ان کو سینکڑوں لاشیں اور ہزاروں متاثرین نظر نہیں آرہے ہیں.
صوبائی حکومت کی گوڈ گورنس کا یہ حال ہے کہ پچھلے سال آنے والے زلزلہ زدگان اور سیلاب متاثرین کے بحالی کے لئے ابھی تک کوئی اقدامات نہیں اٹھائے گئے. ان کے لیے امداد کے صرف اعلانات کے علاوہ ان کی فلاح و بہبود کے لیے کچه نہیں کیا.
حکومت رابطہ سڑکیں، بجلی اور موسلاتی نظام کو بحال کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں تاکہ لوگ کے مسائل کم ہونگے.
میں گلگت بلتستان میں کام کرنے والے تمام فلاحی اداروں کے کام کو سراہتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ وہ اب بهی سیلاب زدگان کی امداد اور بحالی میں کوئی کسر نہیں چھوڑنگے ..

Photo Credits : FACEBOOK

12961559_1027457887292693_4671566265594842923_n.jpg12936609_1691198091119891_5711517255083151835_n12932727_1691198247786542_2271704675677269894_n12931265_1691197691119931_3630761712211295877_n11203689_1691197951119905_3811068210097735720_n7690_1691197891119911_8568678744635631355_n (1)12923333_1691197981119902_4174018083485419358_n

12928144_1027457873959361_2259216857263008924_n12923103_1691197811119919_5920965641672127570_n12321338_1691197861119914_7317798474832502091_n

A letter to the parliamentarians by President PPPP GB


Dear Parliamentarians,amj

AoA

We speak on behalf of the 2.5 million people of Gilgit Baltistan, who had shown their allegiance unconditionally to Pakistan. We would like to draw your kind attention to some issues which are creating a state of uprising in GB.

This letter will serve as a source of information, having facts and figures, and hopefully as a catalyst to give constitutional rights to the people of GB by putting both the regions, i.e. GB and Jammu & Kashmir, in juxtaposition.

GB is not a constituent part of the erstwhile State of Jammu & Kashmir, as it is a historically proven fact that out of the total entities of GB – Gilgit Wazarat, princely states of Hunza & Nagar, Koh-e- Ghizer, Ishkomen, Punial, Yasin ,Baltistan Astore and tribal areas of Chilas, only Gilgit Wazarat formed a part of Kashmir, while other areas remained under the paramountcy of the British government of India.

Maharaja Hari Singh always claimed that Gilgit Agency was part of his Kashmir Darbar and in support of his claim he submitted a detailed note to British Government of India. The final decision of Viceroy in March 1941 put an end to the confusion on the status of the constituent units of the agency that Princely States of Hunza ,Nagar, koh Ghizer, Ishkomen, punial, Yasin, and the entities of Chilas are under suzerainty of Kashmir state though they are not part of kashmir but are separate states & Tribal areas.

As the British were the paramount power in India and Kashmir Darbar had accepted the paramountcy power of the crown, the Viceroy had all legal authority to define the status of any part of India.

But, unfortunately Pakistan had always ignored the historical facts and kept whole of GB in limbo as to the constitution of Pakistan.

Another aspect which we would like to bring to your notice is that after three months of Independence, on 1st November 1947 the GB Scouts with the help of people of GB liberated the erstwhile Northern Areas (Now GB) from Dogra regime by arresting Brigadier Ghansara Singh, Governor appointee of Mahraja Kashmir and formed an independent Government in Gilgit. However, after 16 days, the people of GB acceded the liberated territory with Pakistan.

In 1948, India took the Kashmir issue to the United Nations. The Security Council, on hearing both sides, passed its resolution on January 17, 1948. It was supplemented by a detailed resolution on January 20, 1948, whereby a commission of UN was established which is commonly known as UNCIP. It is pertinent to mention here that both sides agreed to withdraw armed forces and hold plebiscite, and that till then both the countries will administer the regions with local authority.

The constituent Assembly of Indian provisionally incorporated Jammu Kashmir into the constitution of India under Article 370 of the constitution of Indian, while interpreting the word local authority of the UNCIP resolution.

The citizens of the disputed territory of erstwhile State of Kashmir (Jammu Kashmir) under occupation of India are enjoying all constitutional rights and protections guaranteed under the constitution of India. They are enjoying equal status of Indian citizenship. They are eligible and qualified to become members of the Parliament of India, President, Prime Minister of India, and also eligible to join highest judiciary of India. The state subject Rule (SSR) protecting the right of ownership and demographics changes within the region is still having legal force. However, they aren’t recognized trustworthy for defense of India.

Whereas, citizens of GB are neither eligible nor qualified to become members of the Parliament of Pakistan, President, and Prime Minister of Pakistan, as well as to join judiciary of Pakistan. However people of GB are eligible and qualified to join Armed Forces, and are trustworthy for defense of Pakistan. The conferment of   NISHAN _e_ HAIDER to LALIK JAN is a live example of the recognition. Moreover the people of GB are paying all types of federal taxes, including Income Tax. The State Subject Rule (SSR) has been suspended. The rights of Haq_e_Milkiyat-o- Hakimiyat, Fundamental, Democratic, and Financial protections available to provinces of Pakistan, guaranteed under constitution of Pakistan, are not available to citizens of GB.

Gilgit Wazarat, despite having historically proven fact of liberation from Dogra Raj, termination of lease agreement between British Government of India and Maharaja Kashmir during the year 1935 and the March 1941 decision of Viceroy regarding the remaining entities of Gilgit Agency,& judgement passed bysupreme court of Pakistan on 28 may 1999, the treatment of Pakistani Government with GB as disputed territory of Kashmir was wrong from the outset.

Under UNCIP Resolutions, both India and Pakistan had agreed to administer both the sides under their Dominion by maintaining local authority. The phrase” administration by local authority” of UNCIP resolution had been interpreted in different contexts. India has provisionally incorporated J&K under Article 370 of the   constitution of India, while AJK is having its own constitution, whereas GB is being controlled by a Federal Ministry of Kashmir and GB affairs from Islamabad without any constitutional cover. This is another example of discriminatory treatment, with regards to GB, JK & AJk.

It is hard to digest that, if the territory of GB is disputed, how CPEC project has been signed which passes through the territory GB and how Diamer Bahsha Dame project in GB has been planned and how many more years, the people of GB will be forced to wait for their right. Are the people of GB are slaves or humans?

On the basis of the forgoing reasons, we are of the clear view that GB is undisputed part acceded to Pakistan and GB should be given constitutional status as a province in the constitution of Pakistan.

We, therefore, request your good selves to play your role in the Parliament of Pakistan for permanent solution to this long outstanding issue of GB, by declaring it a full fledged constitutional province of Pakistan.

In case of disagreement to the facts mentioned above, we request to bring GB at par with the status given to the Indian Occupied Kashmir by the Indian parliament back in 1948.

AMJAD HUSSAIN AZAR
President PPP GB

 

Good Bye 2015 for wonderful Memories


2K15 ;)#Dubai #Samra #karbala #Najaf #Kufa #Iraq #NagarValley #nagar #thar #Ghizer #Gilgit #HoperValley #shundoor #Khunjrab #BurjKahlefa #Dubaidesert #Islamabad #Masooot #Qasimabad #Nalter #Mithi #Tharparker #indusDelta #Boritlake #Ganish #Phandervalley #karachi #Jagloot #Duiker #HussainNagri 

 

پانی کے وسائل اور مسائل میں گھیرا ہوا گلگت بلتستان


 تحریر : عبدالحسین نگری

پاکستان کے شمال میں واقع  28000 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا خطہ گلگت بلتستان کہلاتا ہے ۔ یہ بھارت ، چین اور وسطی ایشیائی ممالک کے درمیان جغرافیائی لحاظ سے ایک اہم ترین علاقہ ہے۔ دوسرے لفظوں میں اگر گلگت بلتستان کو ایشیا ء کا قلب کہے تو غلط نہیں ہو گا ۔جس کو قدرت نے بے شمار وسائل جنگلات ، معدنیات اور پانی کے زخائر سے نوازا ہے جس میں پانی کے زخائر سرفہرست ہیں ۔

گلگت بلتستان میں دنیا کے تین بڑے پہاڑی سلسلے ہمالیہ ، ہندوکش اور قراقرم ملتے ہیں ، ان پہاڑی سلسلوں میں 5000 ہزار سے زیادہ چھوٹے بڑے گلیشیرز موجود ہیں۔گلگت بلتستان کا 37 فیصد علاقہ گلیشیرز میں گیرا ہوا ہے جس میں دنیا کا دوسرا بڑاسیاچن گلیشیر جس کی لمبائی 65 کلومیڑ اور تیسرا بڑا بیافو گلیشیر جس کی لمبائی ۳۶ کلومیڑ ہے ، سمیت اور بھی کئی ایسے بڑے گلیشیرز موجود ہیں جن کی لمبائی ۴۲ کلومیڑ سے زیادہ ہے اور مشہور سنو لیک بھی انہی گلیشیرز میں موجود ہے۔دینا کی دوسری بلند ترین پہاڑی چوٹی کے ٹو سمیت 60  سے زائد 6000 میڑ سے اونچے پہاڑ وں کا مسکن بھی ان گلیشیرز کے درمیان ہے۔

گلگت بلتستان اور پاکستان میں یہ گلیشیرز ہی پانی کے اہم زریعہ اور زخائر ہیں ۔ گلگت بلتستان کی آبادی چھوٹے چھوٹے دیہاتوں کی شکل میں پہاڑوں کی گود میں ، نالوں اور دریاوں کے کنارے آباد ہے۔ گلگت بلتستان کا پورا زرعی نظام گلیشیرز سے حاصل ہونے والا پانی سے چلتا ہے۔ دریااور نالوں سے یہاں کے باسی چھوٹی ندیاں اور نہریں نکال کر اپنے کھیتوں ، زمینوں اور باغات کو پانی دیتے ہیں اور پینے کے لیے بھی یہی پانی استعمال کرتے ہیں۔گلگت بلتستان کے لوگوں کا زریع آمدن ہی زراعت ہے۔ یہا ں کے لوگ اپنے کھتیوں میں مختلف اقسام کی فصلیں سبزیاں اور اپنے باغات میں پھل اگاتے ہیں جب وہ فصل تیار ہوتی ہے تواس اس کو پاکستان کی مختلف منڈیوں میں فروخت کر کے اپنے پورے سال کے اخراجات کا بندوبست کرتے ہیں۔ یہاں کے آلو ، سیب ، ناشپاتی ، چیری اور خوبانی پاکستان اور دنیا بھر میں مشہور ہے۔

wpid-20150720153535_img_2228.jpg

گلگت بلتستاں میں بجلی پانی سے پیدا کی جاتی ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومت نے تقریبا ہر گاؤں میں ندی نالوں میں قائم پن بجلی گھروں سے بجلی ہے ۔ ؂؂؂محکمہ ما حولیات گلگت بلتستان کی رپورٹ کے مطابق انڈس ریور سسٹم کو گلگت بلتستان میں واقع گلیشیز سالانہ 50.5 بیلن کیوسک میڑ پانی فرہم کرتا ہے۔ جو ۱نڈس ریور سسٹم کا ۲۷ فیصد ہوتا ہے ، جو پاکستان کے زراعت کے شعبے کا 70 فیصد ضروریات پوری کرتا ہے۔ اس سے مراد یہ کہ پاکستان کا زرعی نظام کا ادھا حصہ گلگت بلتستان میں موجود گلیشیز سے نکلنے والے دریا سندھ پر منحصر ہے۔ گلگت بلتستان اور پاکستاں کی عوام جہاں پانی کے وسائل سے فائدہ اٹھاتے ہیں وہاں اسی پانی کے وجہ سے کئی دفعہ اپنی قیمتی جانوں اور املاک کا نقصان اٹھاتے ہیں۔ ان میں مندرجہ ذیل اہم نقصانات اٹھاتے ہیں۔ پہلا گلیشیرز کے پھٹنے سے ہونے والی تباہی اور دوسرا پینے کے پانی میں موجود بیماریاں۔ ایک سروے کے مطابق گلگت بلتستان میں موجود گلیشیرز میں موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے 1500 سے زیادہ تالاب بنے ہیں یہ تالاب انتہائی خطرنک اور نازک ہوتے ہیں جو زیر زمین اتش فشاں کے پھٹنے سے ، زلزلہ ، تیز بارشوں اور گلیشیرز پر موجود بڑے پتھروں کا ان تالابوں میں گر جانے سے یہ تالاب پھٹ جاتے ہیں ۔ جب ایک ساتھ ہزاروں کیوسک پانی تالاب سے نکلتا ہے تو سیلاب کی شکل اختیار کرتا ہے اور اپنے سامنے آنے والی ہر چھوٹی بڑی شے کو اہنے ساتھ بہا کے لے جاتا ہے۔ جیسے اوپر میں نے بتایا کہ گلگت بلتستان کے آبادیاں دریا اور ندیوں کے کنارے آباد ہیں یہ سیلاب ان علاقوں میں جانی اور مالی نقصانات کا سبب بنتے ہیں۔ 2010 میں آنے والے سیلاب نے پورے گلگت بلتستان کا نقشہ تبدیل کر کے رکھ دیا تھا۔ نالوں پر بنائے گئے رابط پلوں ، سڑکوں ، مکانات ، زراعت اور باغات کو بہت نقصانات پہنچایا تھا۔ 47 قیمتی جانیں ضایع ہوئی تھی۔ پانی انسانی زندگی کی اہم جز ہے اس کے بغیر انسان کا زندہ رہنا ممکن نہیں۔ گلگت بلتستان میں لوگ پینے کے لیے گلیشیرز کا پانی صدیوں سے استعمال کرتے آرہے ہیں، ایک سروے کے مطابق 65 فیصد آبادی میں جو بیماریاں پائی جاتی ہیں اس کی اہم وجہ پانی بتایا جارہا ہے۔ یہاں کے لوگوں میں گلے کی سوزش، اسسہال، جلد کی بیماریاں ، پیٹ کا خراب ہونا۔ ٹائیفایڈ ،اور گردے میں پتری جیسی بیماریوں میں مبتلا ہیں ۔ ان تمام بیماریوں سے نجات کا حل یہ ہے کہ حکومت اور فلاحی کو چایئے کہ تمام چھوٹے بڑے دیہاتوں میں واٹر پیروفیکیشن پلانٹس لگائیں یا پھر پہاڑوں میں پھوٹنے والے چشموں کا پانی پائپ کے زریعے آبادیوں میں تک پہنچائے تاکہ بیماریوں پر کنٹرول کیا جا سکے۔ وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت کو چاہئے کہ موسمیاتی تبدیلی اور سیلاب سے بچاو کے لئے مقامی لوگو ں کو سیلاب اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے ذہنی اور جسمانی طور پر تیار کیا جاسکے ، تاکہ وہ قدرتی آفات کا مقابلہ کرنے کے لیے ہر وقت تیار رہے۔

gbbv