گلگت بلتستان اور سیاسی تاریخ

تحریر: حسین نگری

gilgit

گلگت بلتستان شمالی علاقہ جات  پاکستان بنے  کے بعد سےآئنیی حقوق سے محروم نھیں بلکہ پاکستان بنے سے پہلے سے یعنی انگریزوں اور ڈوگروں کی حکمرانی میں بھی آینئ حقوق سے محروم تھا۔

شمالی علاقہ جات (گلگت بلتستان) پہلےجموں کشمیر کا سرحدی صوبہ (فرنٹیر پروینس) کہلاتا تھا۔ انیسویں صدی میں ڈوگروں نے  اس پر قبضہ کر کیا ، اور 1935 میں انگریزوں کو 60 ساٹھ سال کے لیے  لیز پر دیا۔ انگریزوں نے شمالی علاقہ جات (گلگت بلتستان) کو انتیظامی امور چلانے کیلے دو حصوں (وزارت گلگت اور وزارت لداخ) میں تقسیم کیا 1934 ،1937 اور 1941 کے سٹیٹ اسمبلیوں میں وزارت لداخ کے۵ پانچ نمائندے تھے جبکہ وزارت گلگت کی کوئی نمائندگی نیھں تھی۔ یکم اگست۱۹۴۷ میں شمالی علاقہ جات(گلگت بلتستان) کو انگریزوں نے ڈوگروں کو واپس کردیا۔

1947 شمالی علاقہ جات (گلگت بلتستان) کے غیور عوام اورمیروں نے سٹیٹ آرمی میں موجود مقامی آفیسروں کے ساتھ مل کر انگریزوں اور ڈوگروں کے خلاف بغاوت کی۔ ڈنڈوں اور لاٹھیوں سے لڑ کرعلاقے کو آزاد کر وایا۔ جس کے نتجے میں ریاست گلگت وجود میں ایا۔ ریاست گلگت ۱۶ دنوں تک دنیا کے نقشے میں ایک الگ ازاد ریاست قائم رھا۔ راجہ شاہ رائس خان ریاست گلگت کےصدر اور مرزا حسن خان گلگت سکاوٹ کے سپہ سالار بن گئے۔

نومبر1947,16 کوغیر مشروط طورپر پاکستان سے رابط کیا، حکومت پاکستان نے علاقے کو تسلیم کرتے ہوئے ایک نان کمیشنڈ آفیسر کوپولیٹیکل ایجئنٹ بنا کر شمالی علاقہ جات (گلگت بلتستان) بجھوایا۔

پاکستان نے شمالی علاقہ جات (گلگت بلتستان)  کو اپنا آزاد شدہ علاقہ غیرمشروت طور پر پاکستان سے الحاق کرنے پہلا انعام یہ دیا، اپریل ۱1949 میں گلگت بلتستان کے انتظامی امور چلانے حکومت پاکستان اور حکومت آزاد کشمیر کے درمیان ایک معاہدے پر دستخط ھوا۔ اس معاہدے کے بارے میں شمالی علاقہ جات (گلگت بلتستان) کے عوام کی رائے نہیں لی گئ اور شمالی علاقہ جات(گلگت بلتستان) کے عوام اورنما ئند وں کو نظر انداز کیا گیا۔

یہاں کے عوام کو دوسرے تحفے  کی شکل میں حکومت پاکستان نے شمالی علاقہ جات (گلگت بلتستان) کا کنٹرول سنبھالتے ہی ایف۔ سی ۔ار کا کالا قانون علاقےمیں نافذ کردیا۔

.میں1950  وفاقی حکومت نے وزارت امور کشمیر و ناردرن ایریاز(کانا) بنایا اور شمالی علاقہ جات (گلگت بلتستان) کے امور اس کے حوالے کیا

۔1952  میں وزارت امور کشمیر و ناردرن کے ایک جوائنٹ سکٹری  کو شمالی علاقہ جات میں ریزڈنٹ ( مقامی شہریت دےکر) بنا کربھیجااور انتظامی و قانونی امور ان کے حوالےکیے۔

1967

میں وزارت امور کشمیرنے علاقے میں سیاسی اصلاحات دیتے ھوئے ہائی کورٹ اور ریونیو کمیشنر کے اختیارات ریزڈنٹ کو منتقل کئے اور دو پولیٹکل ایجیٹ ایک کو گلگت اور  دوسرے کو بلتستان مقرر کیا۔

جن کوضلعی اورسیشن ججح، ریونیو کلکٹر،کمیشنر ایف ۔ سی ۔ ار ، پولیس چیف اورکنٹرولر کواپریٹو سوسائٹی کے تمام اختیارات دیے تاکہ علاقے کے عوام کو سہولیات مل سکے۔

1979میں نارد رن ایریاز ایڈوائزری کونسل بنایا گیا،پہلی بار علاقے میں الکیشن ہوئے ،اس  الیکشن میں 16 سولہ ممبر منتخب ہوئے۔ کونسل کے پاس ترقیاتی سکیموں کے منظوری کے علاوہ کوئی اختیارات نہیں تھے۔

1972

میں ایک صدارتی حکم نامے کے زریعے ریزڈنٹ کی آسامی کو ریزڈنٹ کمیشنر، گلگت ایجنسی اور بلتستان ایجنسی کو ضلعوں کا درجہ دیااورد یامرکو اضافی ضلع بنا کر ڈپٹی کمیشنرز تعینات کئے۔

1974

میں زولفقارعلی بھٹو کی حکومت نے ایک پیکج کے تحت انتظامی اور عدالتی اصلاحات دے کر ایف ۔ سی ۔ ار ،ریاست ہنزہ اور ریاست نگر کو ختم کر دیا ،ریاست کے حکمرانوں کو سرکاری ملازمتیں اور مراعات دیے۔ اور غذراور گانچے کو اضافی ضلعے بنائے۔1977  میں جب ضیاالحق نے پاکستان میں مارشلا لگایا تو اس کا اطلاق شمالی علاقہ جات پر بھی ھوا۔ اور اسی سال مجلس شوریٰ میں شمالی علاقہ جات کو نماٰئندگی دی گئ۔

1985 میں شمالی علاقہ جات کی اصلاحات کو متعارف کرانے کے لے ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی بنائی گی جس میں وفاقی سیکٹریٹ خزانہ ، منصوبہ بندی ، داخلہ ، تعلیم ، قانون اور وزارت امور کشمیر و ناردرن ایریاز کے نمایندے شامل تھے اور اس کمیٹی کی سفارش پر شمالی علاقہ جات سے تعلق رکھنے والے احمد علی شاہ کو وزارت امور کشمیر و ناردرن ایریاز کا مشیر تعینات کیا گیا۔ 1988 کی محترمہ بے نظیر بھٹو کی جمہوری حکومت میں نارد رن ایریاز ایڈوائزری کونسل کے ممبر قربان علی کو وزیر اعظم کا مشیر بنایا اور وزیر مملکت کے برابر کے مراعات  دیے گئے۔

1994  کی محترمہ بے نظیر بھٹو حکومت کی  وفاقی کابینہ نے لیگل فریم ورک آژر1994 کے  تحت 1988 کی شمالی علاقہ جات کے نظام کو چلانے کے لے قانون بنایا، جس سے چیف سکیڑری اور سول سیکڑیٹ قیام عمل میں ایا۔ جوڈیشل کمیشنر کا عہدہ ختم کر کے عدلیہ میں اصلاحات کی گی۔

۱۹۹۹ میں جنرل مشرف کے دور میں لیگل فریم ورک آژر۱۹۹۴ میں ترمیم کر کے نارد رن ایریاز ایڈوائزری کونسل کو۴۹ مضامین میں قانون سازی کے اختیارات دیے گے۔ ۲۰۰۵ میں شمالی علاقہ جات میں اعلیٰ عدالتوں کا قیام عمل میں آیا۔ نارد رن ایریاز ایڈوائزری کونسل میں چھ ٹیکنوکریٹ کی مخصوص نشستیں اور ایک خواتین کی اضافی نشست بڑھا دی گئی۔ 2004 میں کے نارد رن ایریاز ایڈوائزری کونسل کے ۶چھ ارکان کو مشیر بنایا گیا اور ان کر آزادجموں کشمیر اسمبلی کے ارکان کے مساوی تنخواہ اور مراعات دی گئ۔2007 میں  نارد رن ایریاز لیگل فریم ورک آژر1994 کا نام تبدیل کر کے کے نارد رن ایریاز گورنئس آرڑر 1994 رکھا گیا اور اسی طرح میں نارد رن ایریاز ایڈوائزری کونسل کا نام تبدیل کر کے میں نارد رن ایریاز قانون سازاسمبلی رکھا گیا۔

پاکستان پیپلز پارٹی نے گلگت بلتستان کے عوام کو2009 میں  گلگت بلتستان ایمپاورمینٹ اینڈ سیلف گررنیس آرڈ ر 2009 کی شکل میں ایک اور تحفہ دیا۔ جس کے تحت یہاں کے عوام کو پاکستان کے دوسرے صوبوں کے برابر انسانی حقوق دینے کی کوشیش کی۔

آیئن پاکستان کے مطابق گلگت بلتستان پاکستان کا حصہ نیہں اس لیے یہاں کے عوام کو وفاقی حکومت نے سیاسی اصلاحات دینے کے لیے نارد رن ایریاز لیگل فریم ورک آ1994 اور نارد رن ایریاز گورنئس آرڑر 2007 میں توثیق کی گئ۔

وزیراعظم پاکستان نے ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی وزیرامور کشمیر کی سربراہی میں بنائی جس میں وزیرخارجہ ، وزیر قانون وانصاف، مشیر داخلہ ،سیکڑیری خارجہ، سیکڑیری قانون وانصاف ، سیکڑیری کیبنٹ، سیکڑیری کانا ، ڈی جی ائی۔ ایس۔ ائی ، ڈی جی ائی۔ بی شامل تھے۔ جنہوں نے کئ اعلیٰ سطح کے اجلاسوں کے بعد ایک سیاسی اصلاحات کا پیکج وفاقی کابنیہ کے منظوری کے بعد متعارف کروایا۔

گلگت بلتستان کو ازاد جموں کشمیر کے طرز کا نظام دیا گیا۔ کشمیر والے نطام میں صدر اور وزیراعظم کے عہدے تھے مگر گلگت بلتستان کے نظام میں گورنر اور وزیراعلیٰ کے عہدے ہیں۔وفاق اور

گلگت بلتستان کے اپس کا رشتہ مظبوط کرنے کے لیے گلگت بلتستان کونسل کا قیام عمل میں لایا گیا۔ وزیراعظم پاکستان چیرمین ، گورنر گلگت بلتستان  وائس چیرمین اور وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کونسل کے رکن بنایاگیا۔ ۶ ارکان وزیراعظم پاکستان کے طرف سے نامزد ہونگے اور ۶ ارکان کا انتخاب  گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کرے گئ۔

گلگت بلتستان ایمپاورمینٹ اینڈ سیلف گورنینس آرڈ ر  2009  کے تحت شمالی علاقاجات کا نام تبدیل کر کے گلگت بلتستان رکھا گیا، گورنر،وزیر اعلیٰ اور وزراٰ کے دفاتر بنائے گئے۔

گلگت بلتستان اسمبلی کو بجٹ پاس کرنے کے اختیارات دیئے گئے۔49 مضامین سے بڑھا کر 61 مضامین میں قانون سازی کا آختیار دیا گیا۔ جو مضامین گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے اختیار میں نہں تھے وہ 55 گلگت بلتستان کونسل کے اختیار میں دیئے گئے تاکہ کی قانون سازی کر سکے۔

گلگت بلتستان ایمپاورمینٹ اینڈ سیلف گورنینس آرڈ ر  2009  کے تحت پانچ سال تک پاکستان پیپلز پارٹی نے حکرمت کی، ان کا اپنا مقامی گورنر اور وزیراعلیٰ رہا۔ 12 دسمبر 2015 کر پی پی پی کی حکو مت ختم ہوئی۔ اسی دن صدر پاکستان نے گلگت بلتستان ایمپاورمینٹ اینڈ سیلف گورنینس آرڈ ر  2009 میں ترمیم کر کے وزیر امور کشمیرو گلگت بلتستان کو گورنر تعینات کیا جن کا تعلق ہے۔ یوں گلگت بلتستان کے اختیارات دوبارہ سے وفاق منقیل ہوئے۔

email : husssainnagri@gmail.com

twitter : http://www.twitter.com/hussainnagri

facebook : http://www.fb.com/abdulhussainnagri

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s