!!!وفاقی بجٹ 2016-2015 گلگت بلتستان میں مسلم لیگ ن کے ووٹ بینک پر ایٹم بم کی طرح گرا

مسلم لیگ اور قانون ساز اسمبلی کے انتخا بات

مسلم لیگ اور قانون ساز اسمبلی کے انتخا بات

حسین نگری

بدلتے دنوں اوربدلتے سیاسی صورتحال سےپاکستان مسلم لیگ نواز گلگت بلتستان میں 8جون 2015 کو ہو نے والے انتخابات میں سخت ترین مشکلات کا شکار ہوتی جا رہی ہے۔  آج وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے  بجٹ 2016-2015 پیش کرتے  گلگت بلتستان میں عائد گندم اور نمک پرسبسڈی ختم کرنے کا اعلان کردیا،   جوپچھلے کئی عرصوں سے یہاں کے عوام کوملتی تھی، سبسڈی ختم کرنا مسلم لیگ ن  کے ووٹ بینک پر ایٹم بم کی طرح گرنے کے مترادف ہوا۔  چند لمحوں میں ہی گلگت بلتستان بھر میں مسلم لیگ  ن کے کارکںوں اور عوام میں مایوسی کی لہر دوڈی۔  اور یک دم سے پاکستان مسلم لیگ ن کا  گراف نیچے کی طرف گرنا شروع ہوا۔

چند ماہ پہلے مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما وفاقی وزیر امور کشمیرو گکت بلتستان اور گورنر گکت بلتستان  برجیس طاہر نے گکت بلتستان کو متناضہ علاقہ قراردیتےہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے قرادا اور ایئن پاکستان کے تحت یہ پاکستان کا اٹوٹ انگ نہں۔ وفاقی وزیر کے اس بیان سے گلگت بلتستان کے غیور عوام کو ٹھیس پہنچی تو ین کے خلاف کچھ سیاسی جماعتوں نے جلسے اور جلوس بھی نکالے۔

wheat-export-subsidy-fbr11425065_979873272023500_1934829943989486133_n

 اور دوسری طرف وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے آج اپنے بجٹ کی تقریرمیں متناضہ علاقے میں میسر گندم اور نمک پر پچھلے کئی عرصوں سے ملنے والی  سبسڈی یعنی بنیادی حقوق ختم کرنے کا اعلان کردیا ، تاکہ پاکستان کے قومی خزانے پر سے بوجھ کم ہو۔ سبسڈی کی مد میں وفاقی حکومت تقریباٰ 10 دس ارب سالانہ پاسکو کو دیتی تھی جو اب سبسڈی ختم ہونے سے گلگت بلتستان کے غریب عوام سے براہ راست  وصول کیا جائے گا۔سبسڈی دنیا میں ان علاقوں میں دی جاتی ہیں جو علاقے متناضہ ھو۔

معزول گورنر سید پیر کرم علی شاہ

معزول گورنر سید پیر کرم علی شاہ اور وزیر امور کشیمر  وگورنر گلگت بلتستان برجیس طاہر

مسلم لیگ ن نے دسمبر 2014 میں گلگت بلتستان سے مقامی گورنر جو گلگت بلتستان سیلف گورنیس ۲۰۰۹ کے تحت گلگت بلتستان میں تعینات تھے ان سے استفاع لیے بغیر ایک صدارتی آڑر کے زریعے ایئن پاکستان کونظر انداز کرتے ہوئے ان کی جگہ وفاقی امورکشمیروگلگت بلتستان کو گورنر تعینات کیا۔ حلانکہ آیئن پاکستان کہتا ہی کہ گورنر اسی صوبے کا باشندہ ہو، اگر وہ شخص قومی اسمبلی یا صوبائی اسمبلی کا ممبر ہے تو جس دن وہ اپنا عہدہ سنبھالے گا اس دن ان قومی اسمبلی  یا صوبائی اسمبلی کی نشت خالی ہو جائے گی۔ مگرگلگت بلتستان کے معاملے میں تو پاکستانی سیا ست اور بیروکریسی میں الٹی گنگا بہتی ہے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s