صحرائے تھر میں پانی کے مسائل

عبدالحسین نگری 

مٹهی/ کراچی

ضلع  تهرپارکر پانی کے حساب سے ایشیا کا سب سے حساس اور غیر محفوظ علاقہ سمجھا جاتا ہے. ہر دس سالوں میں صحرائے تھرکے باسیوں کو  تین یا چار مرتبہ خشک سالی کا سامنا کرنا پڑتا ہے. ماہرین ماحولیات اسے عالمی سطح پر ہونے والی  موسمی تغیرپذیری کا اثر مانتے ہیں. قدرتی  ماحولیاتی توازن میں تبدیلیوں کے باعث صحرائے تھر میں بارشوں کا  کم ہونا ، نہ ہونا یا اپنے وقت پر نہ ہونا ہونا خشک سالی کے اہم وجوہات ہیں.

ضلع تهرپارکر  جیسے صحرائی علاقوں میں پانی دو طرح سے حاصل کیا جاتا ہے .  پہلا بارشوں کا پانی  تالاب بنا کر جمع کرنا اور دوسرا کنویں کهود کر زمین کے اندر سے پانی نکالنا. 

 تالابوں  میں جمع شدہ  پانی دو سے تین ہفتوں تک تهرپارکر کے لوگوں کی ضرورت پوری کرتا ہے. اگر ہر تین ہفتے بعد بارشیں نہ ہو تو صحرائے تھر کے لوگوں کو پانی کے شدید قلت کا سامنا کرنا پڑا ہے. 

سکار فاونڈیشن اور مختلف قومی و بین الاقوامی فلاحی تنظیموں نے ذمین سے نکالنے والا  نمکین ،  کهارا اور تالاب والے  پانی کو  پینے کے قابل  بنانے کے لے مختلف علاقوں میں بایو سٹینڈ لگائے ہیں. تاکہ پانی  کو  فلٹر کرنے کے بعد استعمال کیا جائے . پانی کو فلٹر کرنے کا طریقہ کار یہ ہے کہ  ایک بڑے  مٹکے کے اندر مختلف سائز کے چهوٹے  پتهر ایک مخصوص طریقے سے رکهے جاتے ہیں اور  اس کے اوپر ایک چھوٹا مٹکا رکھا جاتا ہے جس کی کونوں میں سوراخ کیے جاتے ہیں تاکہ پانی ان سراخوں کے ذریعے بڑے مٹکے  میں  جمع ہو. ایک دو دنوں میں اس بڑے مٹکے کے پانی میں ایک خاص قسم کی تحہ بن جاتی ہے. جو نمکین  پانی کے نمکیات کو ختم کر کے یعنی  فلٹر کر کے پینے کے  قابل بناتی ہے.. اس مٹکے کو بایو سٹینڈ کہا جاتا ہے

تهرپارکر میں ہونے والی حالیہ بارشوں نے صورتحال تو بہتر کیا ہے مگر خشک سالی کا خطرہ ابھی ٹلا نہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ گذشتہ چند سالوں میں بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے زیر زمین پانی مزید نیچے چلا گیا ہے اور  حالیہ ہونے والے بارشوں کے بعد ابھی تک چند علاقوں میں بارشیں نہیں ہوئی ہیں. جس کی وجہ سے ابھی تک تهرپارکر کے بہت سے علاقوں میں گاس نہیں اگی  ہے. جو تهر کے باسیوں کے لیے 

پریشانی کا سبب ہے.

ہر گاؤں میں ہر گهر کے باہر دو سے تین چوده فٹ گہرے گڑھے کهودے جاتے ہیں جس میں  بارشوں میں گهر کے صحن اور گهر کے چهتوں کا پانی ان  میں جمع ہوتا ہے. یہی پانی پینے اور دوسرے مختلف چیزوں میں استعمال ہوتا ہے .جب یہ پانی ختم ہو جاتا ہے تو لوگ پانی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے تالابوں کا رخ کرتے ہیں.

مختلف فلاحی تنظیموں کی مدد سے مقامی لوگوں نے اپنے گاؤں اور محلوں میں  بڑے پختہ تالاب بنانے ہیں جن میں بارش کا پانی جمع ہوتا ہے .جس کو علاقہ مکین لمبے عرصے تک استعمال کرتے ہیں. اس طرح کے تالاب تو صرف چند گاوں میں بنائے گئے ہیں جو سڑکوں کے نزدیک ہیں. مگر  دور دراز سینکڑوں ایسے دیہات اور گاوں ہیں وہاں آج بھی لوگ قطرہ قطرہ پانی کے لیے ترستے ہیں اور بارشوں پر انحصار کرتے ہیں.

سکار فاونڈیشن کے سروے کے مطابق  2014  میں بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے ضلع تهرپارکر کے عوام کو خشک سالی کے باعث سخت ترین مشکلات کا سامنا کرنا پڑا. سکار نے ضلعے کے چند گاوں کا سروے کیا جس کے مطابق  خشک سالی کی وجہ سےپانی اور چارہ کے کمی کے باعث   49  فیصد جانور ہلاک ہوئے جن میں 31 فیصد  چهوٹے جانور بکریاں، بکرے اور بهیڑ جبکہ 18 فیصد بڑے جانور  اونٹ ، بیل اور گائے شامل ہیں.

صوبائی حکومت نے اربوں روپے خرچ کر کے تهرپارکر سمیت

سندھ بھر میں ریورس اوسموسز ار-اوز سسٹم لگائے ہیں جو سولر انرجی کے ذریعے کهارے پانی کو پینے کے قابل بناتا ہے. مگر افسوس کہ یہ آر -اوز سسٹم سیاست اور کرپشن کے نظر ہو گے. اس سے عوام کو بہت کم فائدہ اور سیاست دانوں اور ٹهکیداروں کو زیادہ فائدہ ملا. آر -اوز سسٹم میں لگائے جانے والی مشینری دو مہینوں سے زیادہ نہ چل سکی. اب تقریباً سندھ بهر کے آر -اوز سسٹم خراب ہو چکے ہیں.

عوام وہی کهارا پانی استعمال کرنے پر مجبور ہیں. کهارے پانی کے بہت سے نقصانات ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ اس پانی میں کئ قسم کی نمکیات کا زیادہ ہونا اور کئی کا کم ہونا ہے جس کی وجہ سے مختلف قسم کے بیماریوں نے یہاں کے عوام کو اپنے شکنجے میں پکڑ لیا ہے جن کا ان کو معلوم تک نہیں.

جب خواتین اور لڑکیاں اپنے گهروں اور گاوں سے دور واقع تالابوں سے پانی لینے جاتی ہیں . ان کے ساتھ کئی قسم کے حادثات رونما ہوتے ہیں جس کی وجہ سے وہ اپنے قیمتی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں. ان کو ایک سے دو گھنٹے پیدل سفر طے کر کے تالابوں تک جانا ہوتا ہے. سالانہ درجنوں خواتین اور لڑکیاں راستے میں جاتے ہوئے جنگلی جانوروں کا شکار ہوتی ہیں کچھ سانپوں کے ڈسنے کی وجہ سے مر جاتی تو کچھ انسانوں کے حوس اور زیادتی کا شکار ہو جاتی ہیں.

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s