گلگت بلتستان اور NTS

گلگت بلتستان کی  صوبائی حکومت نے محکمہ تعلیم کے   1200 خالی اسامیوں کا ٹیسٹ NTS کے ذریعے لینے کا اعلان کیا ہے. ان خالی اسامیوں کے لیے گلگت بلتستان سے کم از کم 30000 لوگ لوگ اپلائی کرینگے. فیس کے مد میں گلگت بلتستان کے غریب عوام کا  2 کروڑ 50 لاکھ روپے NTS کو ان 1200 اسامیوں پر ٹیسٹ کے چکر میں دینے پڑینگےاور  اسی طرح صوبائی حکومت کو بھی NTS کو الگ سے لاکھوں روپے ٹیسٹ کروانے کے مد میں دینے ہونگے..
وزیراعلیٰ گلگت بلتستان نے اعلان کیا ہے کہ محکمہ تعلیم کے خالی اسامیوں پر NTS  کے تحت بهرتیاں کی جائیں گی. یعنی گلگت بلتستان کے غریب عوام کو لوٹنے کا اور اپنے پارٹی کے ورکرز کو نوازنے کا پورا پلان تیار کیا گیا ہے. NTS کے ٹیسٹ کی فیس ایک آسامی پر کم از کم  بینک چالان اور ڈاک سمیت 900 روپے کی لاگت آتی ہے. اور اگر مقامی طور پر صوبائی حکومت ان اساتذہ کی اسامیوں کے لیے ٹیسٹ لینگے تو 25 سے 30 روپے خرچ ہونگے عوام کے.
این ٹی ایس  NTS کے ذریعے ٹیسٹ لینے کے کئی نقصانات ہیں. NTS کوئی سرکاری ادارہ نہیں. یہ مکمل پرائیویٹ ادارہ ہے. جس ملک کرپشن اپنی انتہا کو پہنچ چکاہے. ایک ہفتہ پہلے ROZE TV نے اپنے پروگرام بے نقاب میں NTS میں ہونے والی کرپشن اور سرکاری اداروں اور عوام کو لوٹنے والے نظام کو بے نقاب کیا ہے.

این ٹی ایس NTS ٹیسٹ پاس کروانے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ اسلام آباد میں قائم ان کے دفاتر کے ایک ملازم کو چند روپے دو اور سمجھ لو آپ پاس ہو گئے. میرے 3 دوستوں کآ این ٹی ایس NTS اچهے نمبروں سے تو ہم نے ایسے پاس کروایا تها.
آگر حفیظ الرحمن  صاحب واقعی عوامی وزیر اعلیٰ ہیں تو اس طرح اپنے غریب عوام کو نہیں لوٹنے دینگئے. نہیں اگر ان کو NTS  سے حصہ مل ریا ہے تو ہم کیا کرسکتے ہیں.

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s