وزیراعظم نواز شریف اور گلگت بلتستان کے دورے

آج  وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے گلگت بلتستان کا مختصر دورہ کیا اور عطااباد میں چین کے تعاون سے بنائے گئے عطااباد سرنگوں کا افتتاح کیا.
اس دورے کا بنیادی مقصد 9 جنوری 2010 میں زمین سرکنے کی وجہ سے دریا ہنزہ پر بنے والے عطااباد جهیل پر بنائے گئے سرنگوں کا افتتاح کرنا تها.

image

image

عطااباد گاوں  سرکنے کی وجہ سے سارا ملبہ  دریا ہنزہ  اور شاہراہ قراقرم  بند ہوگیا اور دیکھتے ہی دیکھتے چند دنوں میں دریا ہنزہ  نے ایک بہت بڑی جهیل کی شکل اختیار کی اور 27 کلومیٹر سے زیادہ  شاہراہ قراقرم  کا حصہ عطااباد جهیل میں ڈوب گیا. جس کی وجہ سے پاکستان کا ہمسایہ ملک چین سے زمینی راستہ منقطع ہو گیا تھا.. ہمسایہ

image

س

image

حکومت پاکستان نے ورلڈ بینک  اور چین کے تعاون سے عطااباد جهیل میں ڈوبے ہوئے شاہراہ قراقرم کے متبادل 27 کلومیٹر نئ سڑک جس میں 5سرنگ اور 2 پل شامل ہیں 5سال کے مختصر مدت میں مکمل کیا.
یہ.شاہراہ پاک چین راہداری میں ریڈ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے. مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ پاک چین اکنامک کوریڈور کے بنے کے بعد گلگت بلتستان کے عوام کو اس منصوبے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا. اس کی وجہ یہ ہیں کہ گلگت بلتستان میں منصوبے کے تحت کوئی کاروباری سرگرمیوں کے لئے  ڈرائی پورٹ نہیں بنایا جارہا ہے. یہاں کے عوام نے وفاقی حکومت سے اپیل کی ہے کہ ان کا معاشی قتل بند کیا جائے اور گلگت بلتستان میں شاہراہ قراقرم پر چین سے تجارت کرنے کے لیے ڈرائی پورٹ بنائے جائیں تاکہ یہاں کے مقامی تاجر چین سے اپنی حیثیت کے مطابق تجارت کر کے علاقے میں خوشحالی کا زریعہ بن سکے..
می

image

زر

image

انہوں نے پچھلے دورے میں سرینہ ہوٹل گلگت میں بیٹھ کر 18 میگاواٹ بجلی گهر نلتر کا افتتاح کیا.
وزیر اعظم نواز شریف  کے اعلانات ان کے دوروں کی طرح  صرف ایرپورٹ کے وی وی آئی پی لاونج اور سرینہ ہوٹل  تک محدود نہ ہو نگے  ان  پر عملدرآمد بھی ہوناچاہیے. اس مرتبہ پهر گلگت بلتستان کے اصل مطالبات یعنی آئنی صوبے کی ڈیمانڈ اور پاک چین راہداری میں گلگت بلتستان کا حصہ کی ڈیمانڈ کو پهر سے گول کر دیامیاں صاحب نے گلگت بلتستان کے عوام کو نئے خواب دیکھائے ..
نواز شریف نے وزیر اعظم بننے کے بعد جتنے بھی دورے کئے ہیں اس میں ایک انتخاب کے دوران والے دورے کے علاوہ باقی تمام دوروں میں مقامی صحافیوں اور ن لیگ کے جیالوں اور کارکنوں سے  ہمیشہ دور رہے ہیں. جس کی وجہ سے مقامی صحافیوں نے دو مرتبہ وزیراعظم نواز شریف کا دورہ گلگت کا بائیکاٹ کر کے مقامی اخبارات میں  3 دنوں تک مسلم لیگ کو میڈیا کوریج نہیں دی.

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s