تھر میں خشک سالی جاری، قرضےبڑھنےکااندیشہ

The Nature News (TNN)

Monday 21 September, 2015
Published On: Sun, Sep 20th, 2015 By ed_TNN

صحرائے تھرپانی کی دستیابی کے حوالے سے حساس اورغیرمحفوظ علاقہ سمجھاجاتاہے
حسین نگری
ٹی این این مٹھی، تھرپارکر
صحرائے تھر میں گزشتہ تین سال کے قحط کےبعد اس سال بارش تو ہوئی لیکن یہ بارش خشک سالی کی کمر توڑنے میں مکمل کامیاب نہیں ہوسکی۔.
صحرائے تھرپانی کی دستیابی کے حوالے سے حساس اورغیرمحفوظ علاقہ سمجھاجاتاہے. یہاں کےباسیوں کوہردہائی میں تین یاچارمرتبہ خشک سالی کاسامناکرناپڑتاہے.
ماہرین ماحولیات اسےقحط سالی کوعالمی سطح پرہونےوالی موسمی تغیرپذیری کااثرمانتےہیں، ماحولیاتی توازن میں تبدیلیوں کے باعث صحرائے تھر میں بارشوں کا کم ہونا،نہ ہونایااپنےوقت پرنہ ہونا، خشک سالی کی اہم وجوہات ہیں.
ڈبلیو ڈبلیو ایف کی سینئر مئینجر شہزادی تنیو کا کہنا ہے کہ تھر پارکر میں گزشتہ 25 سالوں سے مسلسل قحط سالی موسمی تبدیلوں کا نتیجہ ہے، ان تبدیلیوں کی وجہ سے درجہ حرارت میں بھی شدت آئی ہے جس نے وہاں انسانوں کے علاوہ دیگر جانداروں کی زندگی اجیرن کردی ہے۔ اس کے علاوہ اس علاقے کو ہریالی سے محروم کردیا ہے۔
پاکستان میڑولوجیکل ڈیپارٹمنٹ ضلع تھر پارکر کےاہلکار دھنیش کمارکےمطابق پچھلےتین سالوں میں مون سون کے دوران کم بارشیں ہوئی ہیں جس کی وجہ سے زراعت کی پیداوار کو خاصا نقصان پہنچا، رواں سال بارشیں جولائی کےآخری دنوں میں 400 ملی میڑسےزیادہ ہوئی ہیں مگر 28 جولائی کےبعد سے ابھی تک بارش کا نہ ہوناخشک سالی کےخطرےکی علامت ہے
تھر پارکر میں گزشتہ 25 سالوں سے مسلسل قحط سالی موسمی تبدیلوں کا نتیجہ ہے ~ ڈبلیو ڈبلیو ایف کی سینئر مئینجر شہزادی تنیو 

تھر پارکر میں گزشتہ 25 سالوں سے مسلسل قحط سالی موسمی تبدیلوں کا نتیجہ ہے ~ ڈبلیو ڈبلیو ایف کی سینئر مئینجر شہزادی تنیو
تھر میں لوگوں کو دو ذرائع سے پانی دستیاب ہوتا ہے، بارشوں اور کنویں کا پانی۔ کنویں میں بھی پانی کی کوالٹی میں تب بہتری آتی ہے جب یہاں بارشیں ہوتی ہیں۔ بعض لوگ گھروں کے نزدیک تالاب بناکر پانی ذخیرہ کردیتے ہیں تاکہ بعد میں استعمال کیا جاسکے۔
زیر زمین پانی مختلف سطحوں پر ملتا ہے جتنا پانی گہرا ہوگا اس میں نمکیات کی مقدار بھی زیادہ پائی جاتی ہے جس میں فلورائڈ کے علاوہ سنکھیا بھی شامل ہے جس کے باعث یہاں کے لوگوں کئی بیماریوں میں مبتلا رہتے ہیں اور اپنی عمر سے بڑے نظر آتے ہیں۔
انچاس لاکھ ایکڑرقبے پر پھیلے اس صحرائی ضلعے کے کئی علاقوں میں پانی کی ضرورت پوری کرنے کے لئے خواتین اور بچے روزانہ کم ازکم پانچ کلومیٹرطےکرکےتالاب یا کنویں سےپانی لینےجاتےہیں۔
تھر میں موسمی تبدیلیوں کے باعث بارشوں میں کمی نے یہاں قحط سالی کو جنم دیا ہے، جس کے باعث گزشتہ دو سالوں میں یہاں پرندوں، جانوروں اور بچوں کی اموات بھی سامنے آچکی ہیں۔

انچاس لاکھ ایکڑرقبے پر پھیلے اس صحرائی ضلعے کے کئی علاقوں میں پانی کی ضرورت پوری کرنے کے لئے خواتین اور بچے روزانہ کم ازکم پانچ کلومیٹرطےکرکےتالاب یا کنویں سےپانی لینےجاتےہیں 

انچاس لاکھ ایکڑرقبے پر پھیلے اس صحرائی ضلعے کے کئی علاقوں میں پانی کی ضرورت پوری کرنے کے لئے خواتین اور بچے روزانہ کم ازکم پانچ کلومیٹرطےکرکےتالاب یا کنویں سےپانی لینےجاتےہیں
حکومت سندھ نے خشک سالی سے بچنے کے لیے ضلعے میں شمسی توانائی پر 750 ریورس اوسموسز آراو پلانٹ لگا ئےہیں جو کھارے پانی کوفلٹرکرکےپینےکےقابل بناتے ہیں. لیکن بہترحکمت عملی نہ ہونےکی وجہ سےنصف سےزائد آراو پلانٹ چند مہینوں کے اندر ہی خراب ہو گئے ہیں.
چند ایک بستیوں بین الاقوامی فلاحی اداروں نےبارشوں کاپانی جمع کرنےکےلیےمقامی لوگوں کےمدد سے تالاب بنائے ہیں اورساتھ میں خودساختہ فلٹریشن پلانٹ لگائےہیں تاکہ پانی پینےکےلیےاستعمال کیاجاسکےمگرسینکڑوں گاؤں اور بستیاں ایسی بھی ہیں جہاں فلاحی ادارےابھی تک نہیں پہنچ سکے ہیں .
انچاس لاکھ ایکڑرقبے پر پھیلے اس صحرائی ضلعے کے کئی علاقوں میں پانی کی ضرورت پوری کرنے کے لئے خواتین اور بچے روزانہ کم ازکم پانچ کلومیٹرطےکرکےتالاب یا کنویں سےپانی لینےجاتےہیں
ہرییارکےرہائشی کھیت سنگھ کےمطابق پچھلے تین سالوں سےخشک سالی کی وجہ سے وہ ادھار گھرکےنظام کوچلارہےہیں جب خشک سالی ختم ہوگی اور فصلیں تیار ہوں گی تب یہ قرضہ اتاریں گے اگر یہ خشکسالی جاری رہتی ہے تو قرضےبڑھنےکااندیشہ ہے.”
کھیت سنگھ کا کہنا ہے کہ رواں سال سال جولائی میں بارشیں بہت ہوئیں مگربدقسمتی سےاسکےبعدبارش نہیں ہوئی،جس کیوجہ سےوہ خدشات میں مبتلا ہیں،کہ یہ سال بھی خشک سالی کےنظرنہ ہوجائے۔
ڈبیلو ڈبلیو ایف کی سینئر مئینجر شہزادی تنیو کا کہنا ہے کہ فصل نہ ہونے اور پانی کی عدم دستیابی کے باعث لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوجاتے ہیں، یہ لوگ زیادہ تر بدین، ٹھٹہ اور حیدرآباد سمیت دیگر علاقوں کا رخ کرتے ہیں۔ بقول ان کے موسمی تبدیلی کے باعث نہ صرف انسان بلکہ قدرتی وسائل اور حیاتی ماحول بھی متاثر ہوتا ہے
Read more at http://thenaturenews.com/ur/2015/09/%d8%aa%da%be%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%ae%d8%b4%da%a9-%d8%b3%d8%a7%d9%84%db%8c-%d8%ac%d8%a7%d8%b1%db%8c%d8%8c-%d9%82%d8%b1%d8%b6%db%92%d8%a8%da%91%da%be%d9%86%db%92%da%a9%d8%a7%d8%a7%d9%86%d8%af/#DCOHVIHEbeWw8xJL.99

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s