چلاس میں ایک اور سانحہ “جنات نے بچے کو مار دیا”

کچھ دن پہلے میری نظر گلگت بلتستان کے معروف علاقائی اخبار پر پڑی جس میں ایک خبر تهی کی چلاس میں 4سالہ بچے اچانک غائب ہو گیا. وہ بچہ اپنی ماں کے ساتھ گهر سے تهوڈآ ہی دور واقع نہر سے پینے کا پانی لینے گیا تھا ا اچانک راستے سے اپنی ماں کے نظروں سے اوجھل ہو گیا. کہاں گیا ؟ کیسے گیا ؟ کس کے ساتھ گیا ؟ اس لاچار ماں کو بھی پتا نہیں چل سکا.
جو ماں گهر سے نکلتے ہوئے اپنے معصوم بچے کو ساته لے کر گئی تھی ان کو کیا معلوم کہ واپسی پر اکیلی اپنے لخت جگر کو کهو کر خالی ہاتھ گهر لوٹ آئے گی. آگر ان کو اس بات کا اندازہ ہوتا تو وہ کبھی بھی اپنے بچے کو اپنے ساتھ پانی لینے نہیں لے کے جاتی.
بچے کے گهر والوں نے اور اہل علاقہ نے اپنی مدد آپ کے تحت اس بچے کو ڈھونڈنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی مگر وہ بچہ ان کو نہیں ملا. بچے کے والدین نے عاملوں اور مزہبی علماء سے رابطہ کیا تو انہوں نے اپنی ان کو جواب دیا کہ آپ کا بچہ جنات کے پاس ہے. جب والدین کو جنات کی کہانی کا علم ہوا تو انہوں نے پچے کو تلاش کرنا بند کر دیا اور مطمئن ہو گئے کہ اب ان کا بیٹا کبھی واپس نہیں اسکتا.انہوں نے پولیس سٹیشن میں رپورٹ کرانے کی زحمت ہی نہیں کی. 
5 دنوں بعد جب بچے کی لاش ایک نالے سے ملی تو علاقے میں ایک کہرام مچ گیا. ہزاروں افراد نے بچے کے نماز جنازہ میں شرکت کی اور بغیر پوسٹ مارٹم کے دن کیا گیا. جب یہ خبر اخبارات میں آئی تو  ڈپٹی کمشنر چلاس نے پولیس کو ہدایت کی کہ اس بچے کی قبرکشائی کر کے پوسٹ مارٹم کے لئے نمونے لے کر فرانزک ٹیسٹ کروایا جائے تاکہ بچے کے قتل کی حقیقت سامنے لایا جائے سکے .. … جاری ہے.

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s