پانی کے وسائل اور مسائل میں گھیرا ہوا گلگت بلتستان

 تحریر : عبدالحسین نگری

پاکستان کے شمال میں واقع  28000 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا خطہ گلگت بلتستان کہلاتا ہے ۔ یہ بھارت ، چین اور وسطی ایشیائی ممالک کے درمیان جغرافیائی لحاظ سے ایک اہم ترین علاقہ ہے۔ دوسرے لفظوں میں اگر گلگت بلتستان کو ایشیا ء کا قلب کہے تو غلط نہیں ہو گا ۔جس کو قدرت نے بے شمار وسائل جنگلات ، معدنیات اور پانی کے زخائر سے نوازا ہے جس میں پانی کے زخائر سرفہرست ہیں ۔

گلگت بلتستان میں دنیا کے تین بڑے پہاڑی سلسلے ہمالیہ ، ہندوکش اور قراقرم ملتے ہیں ، ان پہاڑی سلسلوں میں 5000 ہزار سے زیادہ چھوٹے بڑے گلیشیرز موجود ہیں۔گلگت بلتستان کا 37 فیصد علاقہ گلیشیرز میں گیرا ہوا ہے جس میں دنیا کا دوسرا بڑاسیاچن گلیشیر جس کی لمبائی 65 کلومیڑ اور تیسرا بڑا بیافو گلیشیر جس کی لمبائی ۳۶ کلومیڑ ہے ، سمیت اور بھی کئی ایسے بڑے گلیشیرز موجود ہیں جن کی لمبائی ۴۲ کلومیڑ سے زیادہ ہے اور مشہور سنو لیک بھی انہی گلیشیرز میں موجود ہے۔دینا کی دوسری بلند ترین پہاڑی چوٹی کے ٹو سمیت 60  سے زائد 6000 میڑ سے اونچے پہاڑ وں کا مسکن بھی ان گلیشیرز کے درمیان ہے۔

گلگت بلتستان اور پاکستان میں یہ گلیشیرز ہی پانی کے اہم زریعہ اور زخائر ہیں ۔ گلگت بلتستان کی آبادی چھوٹے چھوٹے دیہاتوں کی شکل میں پہاڑوں کی گود میں ، نالوں اور دریاوں کے کنارے آباد ہے۔ گلگت بلتستان کا پورا زرعی نظام گلیشیرز سے حاصل ہونے والا پانی سے چلتا ہے۔ دریااور نالوں سے یہاں کے باسی چھوٹی ندیاں اور نہریں نکال کر اپنے کھیتوں ، زمینوں اور باغات کو پانی دیتے ہیں اور پینے کے لیے بھی یہی پانی استعمال کرتے ہیں۔گلگت بلتستان کے لوگوں کا زریع آمدن ہی زراعت ہے۔ یہا ں کے لوگ اپنے کھتیوں میں مختلف اقسام کی فصلیں سبزیاں اور اپنے باغات میں پھل اگاتے ہیں جب وہ فصل تیار ہوتی ہے تواس اس کو پاکستان کی مختلف منڈیوں میں فروخت کر کے اپنے پورے سال کے اخراجات کا بندوبست کرتے ہیں۔ یہاں کے آلو ، سیب ، ناشپاتی ، چیری اور خوبانی پاکستان اور دنیا بھر میں مشہور ہے۔

wpid-20150720153535_img_2228.jpg

گلگت بلتستاں میں بجلی پانی سے پیدا کی جاتی ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومت نے تقریبا ہر گاؤں میں ندی نالوں میں قائم پن بجلی گھروں سے بجلی ہے ۔ ؂؂؂محکمہ ما حولیات گلگت بلتستان کی رپورٹ کے مطابق انڈس ریور سسٹم کو گلگت بلتستان میں واقع گلیشیز سالانہ 50.5 بیلن کیوسک میڑ پانی فرہم کرتا ہے۔ جو ۱نڈس ریور سسٹم کا ۲۷ فیصد ہوتا ہے ، جو پاکستان کے زراعت کے شعبے کا 70 فیصد ضروریات پوری کرتا ہے۔ اس سے مراد یہ کہ پاکستان کا زرعی نظام کا ادھا حصہ گلگت بلتستان میں موجود گلیشیز سے نکلنے والے دریا سندھ پر منحصر ہے۔ گلگت بلتستان اور پاکستاں کی عوام جہاں پانی کے وسائل سے فائدہ اٹھاتے ہیں وہاں اسی پانی کے وجہ سے کئی دفعہ اپنی قیمتی جانوں اور املاک کا نقصان اٹھاتے ہیں۔ ان میں مندرجہ ذیل اہم نقصانات اٹھاتے ہیں۔ پہلا گلیشیرز کے پھٹنے سے ہونے والی تباہی اور دوسرا پینے کے پانی میں موجود بیماریاں۔ ایک سروے کے مطابق گلگت بلتستان میں موجود گلیشیرز میں موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے 1500 سے زیادہ تالاب بنے ہیں یہ تالاب انتہائی خطرنک اور نازک ہوتے ہیں جو زیر زمین اتش فشاں کے پھٹنے سے ، زلزلہ ، تیز بارشوں اور گلیشیرز پر موجود بڑے پتھروں کا ان تالابوں میں گر جانے سے یہ تالاب پھٹ جاتے ہیں ۔ جب ایک ساتھ ہزاروں کیوسک پانی تالاب سے نکلتا ہے تو سیلاب کی شکل اختیار کرتا ہے اور اپنے سامنے آنے والی ہر چھوٹی بڑی شے کو اہنے ساتھ بہا کے لے جاتا ہے۔ جیسے اوپر میں نے بتایا کہ گلگت بلتستان کے آبادیاں دریا اور ندیوں کے کنارے آباد ہیں یہ سیلاب ان علاقوں میں جانی اور مالی نقصانات کا سبب بنتے ہیں۔ 2010 میں آنے والے سیلاب نے پورے گلگت بلتستان کا نقشہ تبدیل کر کے رکھ دیا تھا۔ نالوں پر بنائے گئے رابط پلوں ، سڑکوں ، مکانات ، زراعت اور باغات کو بہت نقصانات پہنچایا تھا۔ 47 قیمتی جانیں ضایع ہوئی تھی۔ پانی انسانی زندگی کی اہم جز ہے اس کے بغیر انسان کا زندہ رہنا ممکن نہیں۔ گلگت بلتستان میں لوگ پینے کے لیے گلیشیرز کا پانی صدیوں سے استعمال کرتے آرہے ہیں، ایک سروے کے مطابق 65 فیصد آبادی میں جو بیماریاں پائی جاتی ہیں اس کی اہم وجہ پانی بتایا جارہا ہے۔ یہاں کے لوگوں میں گلے کی سوزش، اسسہال، جلد کی بیماریاں ، پیٹ کا خراب ہونا۔ ٹائیفایڈ ،اور گردے میں پتری جیسی بیماریوں میں مبتلا ہیں ۔ ان تمام بیماریوں سے نجات کا حل یہ ہے کہ حکومت اور فلاحی کو چایئے کہ تمام چھوٹے بڑے دیہاتوں میں واٹر پیروفیکیشن پلانٹس لگائیں یا پھر پہاڑوں میں پھوٹنے والے چشموں کا پانی پائپ کے زریعے آبادیوں میں تک پہنچائے تاکہ بیماریوں پر کنٹرول کیا جا سکے۔ وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت کو چاہئے کہ موسمیاتی تبدیلی اور سیلاب سے بچاو کے لئے مقامی لوگو ں کو سیلاب اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے ذہنی اور جسمانی طور پر تیار کیا جاسکے ، تاکہ وہ قدرتی آفات کا مقابلہ کرنے کے لیے ہر وقت تیار رہے۔

gbbv

 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s