بارشں، سیلاب اورگلگت بلتستان کے عوام

12919806_1140265875992272_2227406155541449069_n
رابطہ سڑکیں بند ہونے کی وجہ سے مریضوں کو ایمبولینسوں کی بجائے لاشوں کی طرح چارپائیوں پر لاد کر 50 کلومیٹر سے بھی زیادہ کا سفر پیدل طے کر کے ہسپتالوں تک پہنچآیا جاریا ہے

Photo Credits : PAMIR TIMES

بارشوں، سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے سے جن مسائل کا گلگت بلتستان کے عوام اس وقت شکار ہے ان مسائل کے حل کے لیے وفاق

اور صوبائی حکومتوں نے ابھی تک کوئی خاطر خواہ اقدام نہیں اٹھایا کیونکہ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حفیظ الرحمن صاحب ، جناب میاں شہباز شریف کے نقش قدم پر چلتے ہوئے صرف فوٹو شیشن کے لیے اوشکنداس میں اپنے نقاب پوش محافظوں کے ساتھ دبنگ آنٹری دی پهر اس کے بعد غائب .
مریضوں کو ہسپتال ا اور گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں پهنسے ہوئے سیاحوں کو محفوظ مقامات تک پہنچا نے کے لئے کسی ایمرجنسی آپریشن کاابھی تک آغاز نہیں کیا گیا.
4دنوں سے گلگت بلتستان کے تمام ضلعوں کا ایک دوسرے ذمینی اور پاکستان سے زمینی اور فضائی رابطہ منقطع ہے
گلگت بلتستان کے مختلف مقامات پر مٹی کے تودے گرنے اور سیلاب کی وجہ سے رابطہ سڑکیں بند ہوگئی ہیں ، کهیتوں میں کهڑی فصلیں تباہ ہوئی ہیں ، ہزاروں پهل دار اور غیر پهل دار درختوں کو نقصان پہنچا ہے . کسانوں کی جمع پونجی بارشی کے پانی کے ساته بہہ گی ہے.
رابطہ سڑکیں بند ہونے کی وجہ سے مریضوں کو ایمبولینسوں کی بجائے لاشوں کی طرح چارپائیوں پر لاد کر 50 کلومیٹر سے بھی زیادہ کا سفر پیدل طے کر کے ہسپتالوں تک پہنچآیا جاریا ہے . چپورسن ، ہسپر ، اورلڈنگ اور منی مرگ جیسے درجنوں دور افتادہ علاقوں میں خوراک اور دوائیوں کی قلت کی بهی اطلاعات آرہی ہیں.
بجلی کا نظام درہم برہم ہونے سے پورا گلگت بلتستان تاریکی میں ڈوب چکا ہے جس کی وجہ سے موسلاتی نظام بهی شدید متاثر ہوا ہے. پاکستان اور دنیا بهر میں بسنے والے گلگت بلتستان کے باسیوں کا پچھلے 3دنوں سے رابطہ نہیں ہو پا رہا جس کی وجہ سے وہ سخت پریشان ہیں.

12439095_1580631858919292_634696587840547517_n.jpg
پاکستانی میڈیا اپنی ریٹنگ کے چکر میں ان سیلاب زدگان کے مسائل کو اجاگر کرنے کی بجائے پنامہ پچامہ اور کرکٹ کے خبروں میں مصروف ہیں. ان کو سینکڑوں لاشیں اور ہزاروں متاثرین نظر نہیں آرہے ہیں.
صوبائی حکومت کی گوڈ گورنس کا یہ حال ہے کہ پچھلے سال آنے والے زلزلہ زدگان اور سیلاب متاثرین کے بحالی کے لئے ابھی تک کوئی اقدامات نہیں اٹھائے گئے. ان کے لیے امداد کے صرف اعلانات کے علاوہ ان کی فلاح و بہبود کے لیے کچه نہیں کیا.
حکومت رابطہ سڑکیں، بجلی اور موسلاتی نظام کو بحال کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں تاکہ لوگ کے مسائل کم ہونگے.
میں گلگت بلتستان میں کام کرنے والے تمام فلاحی اداروں کے کام کو سراہتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ وہ اب بهی سیلاب زدگان کی امداد اور بحالی میں کوئی کسر نہیں چھوڑنگے ..

Photo Credits : FACEBOOK

12961559_1027457887292693_4671566265594842923_n.jpg12936609_1691198091119891_5711517255083151835_n12932727_1691198247786542_2271704675677269894_n12931265_1691197691119931_3630761712211295877_n11203689_1691197951119905_3811068210097735720_n7690_1691197891119911_8568678744635631355_n (1)12923333_1691197981119902_4174018083485419358_n

12928144_1027457873959361_2259216857263008924_n12923103_1691197811119919_5920965641672127570_n12321338_1691197861119914_7317798474832502091_n

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s