پاکستان کے مختلف علاقوں سےگلگت بلتستان میں جوسیاح مہمان بن کر علاقے کی خوبصورتی دیکھنے آتے ہیں ان کی تفریح اور ویڈیو بنانے کے شوق کے نتیجے میں اس کے سال بھر کی کمائی کے لٹنے کی شکایت کس سے کرے

علی یارشاہراہ قراقرم پر واقع ضلع نگرکا باسی ہے ان کی آمدنی کا ذریعہ زراعت ہے چند کنال زمین پر واقع کھیت ،خوبانی اور سیب کے چند درخت سے حا صل پھلوں کو فروخت کرکے وہ کنبے کا اخراجات پورا کرتا ہے۔ معمول کے مطابق گزشتہ روز جب وہ اپنی باری والے روز گھر سے دور شاہراہ قراقرم کے پاس واقع زمین پر پودوں اور چراگاہ کو پانی دینے گیا تو اس کی نظر خوبانی کے درختوں پر پڑی پھل پک کر تیار ہو چکے تھے انھوں نے دو دن کے اندر دیگر کاموں سے فرصت نکال کر خوبانی کے پھل اتارنے اور انھیں خشک کرکے پھٹور(خشک خوبانی) بنانے کا فیصلہ کر لیا۔ کیونکہ تاخیر کی صور ت میں پھل خراب ہونے کا خدشہ تھا چنانچہ دو دن بعد جب وہ اپنے کنبے کے افراد کے ساتھ صبح سویرے خوبانی کا پھل اتارنے آیا تو ان کی حیرت کی انتہاء نہ رہی۔

14751510300_c0cc02845f_zان کی پچپن سالہ زنگدی کبھی ایسا منظر نہیں دیکھا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ان کے درختوں سے خوبانی کے تمام پھل زمین گرے ہوئے تھے اور ان کو پاوں اس بری طرح روندا گیا تھا کہ وہ پھٹور (خشک خوبانی)تو کجا جانوروں کے کھانے بھی قابل نہیں رہے تھے۔ وہ اور اس کے کنبے کے افراد افسردہ حالت میں واپس گھر آگئے ان کی سمحھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کس نے یہ سب کیاہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

علی یار دن کے وقت بیاک میں بیٹھک کے دوران گاوں کے دیگر افراد کو بھی یہ ماجرا سنا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سب ہی حیرت سے ان کا منہ تک رہے تھے کیونکہ علاقے کی روایات کے مطابق خوبانی سمینت تمام پھل کہیں سے اتار کر کھائے جا سکتے ہیں لیکن انھیں تقصان پہنچانا یا ضائع کرنا جرم ہے۔ کسی کے پاس اس بات جواب نہیں تھا کہ کس نے اور کیوں خوبانی کے پھل ضائع کئے ہیں؟

apricot-tree-300x298

رات کو جب وہ گھر آیا تو ان کے ہمسایہ محلے سے لسی لینے گھر آئے ہوئے دو بچوں نے علی یار کو بتایا کہ دوپہر کے وقت جب وہ اپنی چراگاہ سے جانوروں کو چراکر واپس آرہے تھے تو انھوں نے دیکھا کہ تین ویگنوں سوار کچھ سیاح آئے انھہوں نے سڑک کے کنارے گاڑیاں کھڑی کیں پہلے وہ خوبانی کے درختوں کے سائے میں آرام کرنےلگے موبائل سے تصاویر اور ویڈیوز بنانے رہے پھرخوبانی کے درخت چڑھ کر خوبانی کھانے لگے اس دوران سیاحوں میں شامل کچھ منچلوں نے عجیب حرکات شروع کیں انھہوں نے ایک چادر کو چار کونوں سے پکڑ کر خوبانی کے درخت کی شاخیں ہلا کر پھل نیچے گراتے اور خوبانی کے پھل چادر میں گرنے کا منظر اپنے موبائل میں محفوظ کرتے رہے جب چادر پھلوں سے بھر جاتا وہ اسے زمین پر پھینک دیتے اور دبارہ باری باری یہ عمل دہراتے رہے اور تھوڑی دیر بعد اپنی گاڑیوں میں سوار ہوکر چلے گئے۔ یہ تمام ماجرا سننے کے بعد علی یار حیران رہ گیا ان کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ ملک عزیز پاکستان کے مختلف علاقوں سے ان کے علاقے میں جوسیاح مہمان بن کر علاقے کی خوبصورتی دیکھنے آتے ہیں ان کی تفریح اور ویڈیو بنانے کے شوق کے نتیجے میں اس کے سال بھر کی کمائی کے لٹنے کی شکایت کس سے کرے؟؟؟؟؟

5551c94f74351.jpg

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s