پہلے تو بتہہ دینا پڑتا تها اب صرف چائے پلانی پڑتی ہے.


کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے. اسی طرح سب سے بڑے شہر ہونے کے باعث اس اس شہر کے مسائل بهی زیادہ ہیں. ملک بهر سے بےروزگار عوام اپنے روزگار کے سلسلے میں سب سے زیادہ کراچی کا رخ کرتے ہیں .
بہت سے لوگوں کی طرح سفی اللہ نے بهی اپنے روزگار کے سلسلے میں کراچی کا رخ کیا اور یہاں کراچی میں چائے کآ ہوٹل چلاتے ہیں ان کا تعلق صوبہ بلوچستان کے شہر کوئٹہ کے نواحی گاؤں سے ہے.اس نے ہوٹل چلانے کے لیے  اپنے چهوٹے  بهائیوں اور چچازاد بهائیوں کو اپنے ساتھ رکها  ہوا ہے .
ان کے پاس روزانہ جانے کی وجہ سے وہ ہماری پاس آ کر اپنے چهوٹے موٹے مسائل اور درد دل بهی سناتے رہتے ہیں اور مذاق وغیرہ بھی کرتے رہتے ہیں.

آج دوپہر کو معمول کے مطابق دوپہر کو چائے نوش کرنے کے لیے حسب عادت حبیب یونیورسٹی کے ساتھ رابعہ سٹی کے باہر چائے کے ہوٹل پر چائے کے انتظار میں بیٹھے تھے. اتنے میں ایک پولیس کی گاڑی وہاں آکر روکی اور اس میں سے ایک آفیسر سمیت پانچ اہلکار تھے. ان میں سے چار پولیس کے نوجوان نیچے اترے .ایک سپاہینے  سفی اللہ کو وہی سے روپ دار آواز میں حکم دیا کہ ان ک لیے پانچ سپیشل چائے بنائیں. سفی اللہ نے سر ہلا کر کہا میں بجهوا دیتا ہوں جناب.
میں ٹیبل پر بیٹھے چائے کا سیپ لیتے ہوئے سب کچھ غور سے دیکھ رہا تھا. پولیس کا ایک سپاہی گاڑی میں موجود پانی کے کولر میں برف ڈلوانے کے لیے ہوٹل کے ساتھ برف والا ہے اس کے پاس گیا. پسے دیے بغیر برف ڈلوا  کر واپس اپنے گاڑی کی طرف آیا . اتنےمیں ساتھ بیٹھے کامران نے کہا تم کیا پولیس والوں کو دیکھ رہے ہو یہ تو ان کا روز کا معمول ہے. آئنگے اور پیسے دیے بغیر  برف اور چائے پی کے چلے جائنگے ،وہی ہوا پولیس والوں نے چائے پی لی اور پیالوں کو  سڑک کے کنارے پر چهوڈ کر چلے گئے.
ان کے جانے کے بعد میں نے سفی اللہ کو بلایا اور پوچا یہ کیا ماجرا ہے پولیس والے بغیر پیسے دیے چلے گئے. سفی اللہ نے لمبی سانس لی اور کہا صاحب اب ان کو ہم کچھ کہہ نہیں سکتے . دن میں تین چار مرتبہ یہ لوگ ائنگے اور بنا پسے دیے چلے جائیں گے. ان کو چائے کے پیسوں کا تقاضا کرتے ہیں تو کہتے ہیں آپ نے یہاں پہ بیٹھ کر روزی کمانآ ہے یا واپس جانا ہے.
سفی اللہ نے ہنستے ہوے کہا پہلے تو بتہہ دینا پڑتا تها اب صرف چائے پلانی پڑتی ہے.

چلاس میں ایک اور سانحہ “جنات نے بچے کو مار دیا”


کچھ دن پہلے میری نظر گلگت بلتستان کے معروف علاقائی اخبار پر پڑی جس میں ایک خبر تهی کی چلاس میں 4سالہ بچے اچانک غائب ہو گیا. وہ بچہ اپنی ماں کے ساتھ گهر سے تهوڈآ ہی دور واقع نہر سے پینے کا پانی لینے گیا تھا ا اچانک راستے سے اپنی ماں کے نظروں سے اوجھل ہو گیا. کہاں گیا ؟ کیسے گیا ؟ کس کے ساتھ گیا ؟ اس لاچار ماں کو بھی پتا نہیں چل سکا.
جو ماں گهر سے نکلتے ہوئے اپنے معصوم بچے کو ساته لے کر گئی تھی ان کو کیا معلوم کہ واپسی پر اکیلی اپنے لخت جگر کو کهو کر خالی ہاتھ گهر لوٹ آئے گی. آگر ان کو اس بات کا اندازہ ہوتا تو وہ کبھی بھی اپنے بچے کو اپنے ساتھ پانی لینے نہیں لے کے جاتی.
بچے کے گهر والوں نے اور اہل علاقہ نے اپنی مدد آپ کے تحت اس بچے کو ڈھونڈنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی مگر وہ بچہ ان کو نہیں ملا. بچے کے والدین نے عاملوں اور مزہبی علماء سے رابطہ کیا تو انہوں نے اپنی ان کو جواب دیا کہ آپ کا بچہ جنات کے پاس ہے. جب والدین کو جنات کی کہانی کا علم ہوا تو انہوں نے پچے کو تلاش کرنا بند کر دیا اور مطمئن ہو گئے کہ اب ان کا بیٹا کبھی واپس نہیں اسکتا.انہوں نے پولیس سٹیشن میں رپورٹ کرانے کی زحمت ہی نہیں کی. 
5 دنوں بعد جب بچے کی لاش ایک نالے سے ملی تو علاقے میں ایک کہرام مچ گیا. ہزاروں افراد نے بچے کے نماز جنازہ میں شرکت کی اور بغیر پوسٹ مارٹم کے دن کیا گیا. جب یہ خبر اخبارات میں آئی تو  ڈپٹی کمشنر چلاس نے پولیس کو ہدایت کی کہ اس بچے کی قبرکشائی کر کے پوسٹ مارٹم کے لئے نمونے لے کر فرانزک ٹیسٹ کروایا جائے تاکہ بچے کے قتل کی حقیقت سامنے لایا جائے سکے .. … جاری ہے.

پاکستان میٹرولجیکل ڑپارٹمنٹ گلگت بلتستان نے گلگت بلتستان کے عوام  اور متلقہ اداروں کو خبردار کیا ہے 21 ستمبر سے 23 ستمبر کے دوران  گلیشئرز پر بنے جهیلوں کے پهٹنے کا خطرہ ہے 


حسین نگری 

گلگت:

پاکستان میٹرولجیکل ڑپارٹمنٹ گلگت بلتستان نے گلگت بلتستان کے عوام  اور متلقہ اداروں کو خبردار کیا ہے 21 ستمبر سے 23 ستمبر کے دوران  گلیشئرز پر بنے جهیلوں کے پهٹنے کا خطرہ ہے 

محکمہ موسمیات گلگت کے ڈائریکٹر کے مطابق ارلی وارننگ سسٹم کے مطابق 21 ستمبر سے 23 ستمبر 2015 کو آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں 1500 فٹ سے بلند پہاڑوں پر برفباری اور کم بلند پہاڑوں اور ان میں موجود وادیوں میں بارشوں کا امکان ہے.

اس صورتحال میں گلیشئرز کے قریب علاقوں میں گلیشئرز پر بنے جهیلوں کے پهٹنے سے سیلاب کا خطرہ ہے . اور اس طرح کے سیلاب کا زیادہ تر خطرہ بلتستان ریجن میں ہے.

دریاؤں اور ندی نالوں کے قریب رہنے والے آبادیوں کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ پانچ دنوں کے دوران انتہائی احتیاط کریں.

تمام متعلقہ اداروں سے گزارش کی ہے کہ بروقت احتیاطی تدابیر اور حکمت عملی اختیار کریں. تاکہ قدرتی آفات میں نقصان کم سے کم ہو.

یاد رہے کہ وادی بگروٹ گلگت  میں چند ہفتے پہلے پاکستان کا پہلا ارلی وارننگ سسٹم نصب کیا گیا ہے تاکہ قدرتی آفات کا بروقت علم ہو اور اس کے مطابق حکمت عملی کرتے ہوئے سیلاب ، بارشوں اور قدرتی آفات میں انسانی جان اور مال کا نقصانات کم از کم ہو.

Climate change causes water scarcity, food insecurity in Tharparkar


Published On: Mon, Sep 21st, 2015

Abdul Hussain Nagri

MITHI, THARPARKAR, SINDH

Considering the precious resource of water, Tharparkar is considered to be one of the most sensitive and insecure areas in Asia. Residents have faced severe drought at least thrice in each decade since the 1960s. While meteorologists attribute this scarcity to global climate change, Pakistan ranks 16th on the list of countries facing severe environmental problems due to climate change.

After a gap of three years, Thar Desert experienced rain this monsoon but it was not enough to cover the damages done in the last three years.

According to Dinesh Mushawar, an official of Pakistan Meteorological Department (PMD) Tharparkar, insufficient amount of rain for the last three years, especially in the monsoon season has presented challenges for farmers.

“Change in climate and drought have damaged the crops, yielding no commercial or domestic crops for the farmers,” he says.

Although it rained more than 400mm this year, there was no pouring after July 28, adding to the looming dangers of water scarcity.

image: http://thenaturenews.com/wp-content/uploads/2015/09/Illustration-English__1442779039_43.246.223.7-1024×607.jpg

Considering the precious resource of water, Tharparkar is considered to be one of the most sensitive and insecure areas in Asia
Considering the precious resource of water, Tharparkar is considered to be one of the most sensitive and insecure areas in Asia
The inhabitants of Thar obtain water by two means: rain and underground water wells. In a rather unique way of storing and distributing water, they build ponds to store water outside the house for domestic and agricultural use.

A less preferred way to obtain water is to dig water wells, which produces saltwater. This briny water is rich in Sodium Chloride and other minerals, and its stickiness is damaging to the human body. It also causes diseases, both in humans and in animals alike.

Hence, scarcity of water has forced both humans and animals to use the same sources of water, i.e. reservoirs and ponds.

Women and children, endangering their lives, walk more than five miles every day to get access to any kind of water source, as all kinds of wild predators are also on their way to find water. Incidents of rape have also been reported by women who make this arduous journey daily. 

To deal with the problem, the Government of Sindh installed as many as 750 solar energy-powered Reverse Osmosis Systems (ROS) to filter saltwater, making it fit for human consumption.

image: http://thenaturenews.com/wp-content/uploads/2015/09/DSC0211-1024×721.jpg

In Thar Desert, women and children, endangering their lives, walk more than five miles every day to get access to water source-Photo The Nature News
In Thar Desert, women and children, endangering their lives, walk more than five miles every day to get access to water source-Photo The Nature News
However, due to a lack of maintenance and administration, more than half of the ROS stopped working within a few months of installation.

Some of the affected villages, however, after receiving aid from national and international organisations were able to build water reservoirs on their own. These reservoirs collect rainwater, and are equipped with water filtration plants for providing a clean water source for the village folk. They also act as collecting units to fulfil the demand in times of scarcity. Yet, there are villages that are far from the reach of such organisations, forcing the residents to suffer.

“We earn money through agriculture and animal breeding. We grow cotton, grass, hay and vegetables to support ourselves and our animals. But for the last three years we have not been able to do that due to water shortage,” says Khet Singh, a resident of Haryaar area of Tharparkar.

“We have to constantly take loans to keep our households running. Once the drought is over, we will sell our crops and animals and payoff these loans. If the drought continues, it will burden us with more debt.”

It hasn’t rained since July, which indicates a drought has hit us again,” adds Singh.

“When there is insufficient rain, it forces us to look for hay, silage and grass in farther districts than ours. We travel distance of more than 200km to look for food for our cattle.”

He added that because of formation of new villages, there has been a population increase in Tharparkar. As a result, both humans and animals compete for same resources – a difficult situation.

Bahar-o-Mal, a welfare worker and meteorologist says constant drought in Tharparkar over the years has lowered the underground water level, leaving the land barren.

“The water table has subsided so low that even after the monsoon season this year, water could not fertile the ground.”

If it doesn’t rain anymore in the continuing year, there may be famine.

“Growth of seasonal vegetables is not possible now,” he says.

According to Sukaar Foundation’s survey on the percentages of food and water shortage in Thar, less than 72 percent of the people have adequate food saved up for one day, while only 19 percent have the resources to buy food for a week. Only 9 percent of the district’s population can afford to buy food for a month from their savings.

Similarly, the survey says, 63 percent of the people borrow money from friends, family, and feudal lords to keep their households running. Only 25 percent of the people have saved up to provide food for their animals, while 12 percent of them have cash to buy animal fodder from markets.

The foundation also revealed that 11 percent camels, 7 percent of cows, 22 percent of lambs and 9 percent of the district’s goats have expired in recent years due to ill nutrition, drought, harsh weather and lack of resources for medication.
image: http://thenaturenews.com/wp-content/uploads/2015/09/Map-English__1442779085_43.246.223.7-1024×853.jpg

Read more at http://thenaturenews.com/2015/09/climate-change-causes-water-scarcity-food-insecurity-in-tharparkar/#dZzM7jhgQ0GZtP5d.99

تھر میں خشک سالی جاری، قرضےبڑھنےکااندیشہ


The Nature News (TNN)

Monday 21 September, 2015
Published On: Sun, Sep 20th, 2015 By ed_TNN

صحرائے تھرپانی کی دستیابی کے حوالے سے حساس اورغیرمحفوظ علاقہ سمجھاجاتاہے
حسین نگری
ٹی این این مٹھی، تھرپارکر
صحرائے تھر میں گزشتہ تین سال کے قحط کےبعد اس سال بارش تو ہوئی لیکن یہ بارش خشک سالی کی کمر توڑنے میں مکمل کامیاب نہیں ہوسکی۔.
صحرائے تھرپانی کی دستیابی کے حوالے سے حساس اورغیرمحفوظ علاقہ سمجھاجاتاہے. یہاں کےباسیوں کوہردہائی میں تین یاچارمرتبہ خشک سالی کاسامناکرناپڑتاہے.
ماہرین ماحولیات اسےقحط سالی کوعالمی سطح پرہونےوالی موسمی تغیرپذیری کااثرمانتےہیں، ماحولیاتی توازن میں تبدیلیوں کے باعث صحرائے تھر میں بارشوں کا کم ہونا،نہ ہونایااپنےوقت پرنہ ہونا، خشک سالی کی اہم وجوہات ہیں.
ڈبلیو ڈبلیو ایف کی سینئر مئینجر شہزادی تنیو کا کہنا ہے کہ تھر پارکر میں گزشتہ 25 سالوں سے مسلسل قحط سالی موسمی تبدیلوں کا نتیجہ ہے، ان تبدیلیوں کی وجہ سے درجہ حرارت میں بھی شدت آئی ہے جس نے وہاں انسانوں کے علاوہ دیگر جانداروں کی زندگی اجیرن کردی ہے۔ اس کے علاوہ اس علاقے کو ہریالی سے محروم کردیا ہے۔
پاکستان میڑولوجیکل ڈیپارٹمنٹ ضلع تھر پارکر کےاہلکار دھنیش کمارکےمطابق پچھلےتین سالوں میں مون سون کے دوران کم بارشیں ہوئی ہیں جس کی وجہ سے زراعت کی پیداوار کو خاصا نقصان پہنچا، رواں سال بارشیں جولائی کےآخری دنوں میں 400 ملی میڑسےزیادہ ہوئی ہیں مگر 28 جولائی کےبعد سے ابھی تک بارش کا نہ ہوناخشک سالی کےخطرےکی علامت ہے
تھر پارکر میں گزشتہ 25 سالوں سے مسلسل قحط سالی موسمی تبدیلوں کا نتیجہ ہے ~ ڈبلیو ڈبلیو ایف کی سینئر مئینجر شہزادی تنیو 

تھر پارکر میں گزشتہ 25 سالوں سے مسلسل قحط سالی موسمی تبدیلوں کا نتیجہ ہے ~ ڈبلیو ڈبلیو ایف کی سینئر مئینجر شہزادی تنیو
تھر میں لوگوں کو دو ذرائع سے پانی دستیاب ہوتا ہے، بارشوں اور کنویں کا پانی۔ کنویں میں بھی پانی کی کوالٹی میں تب بہتری آتی ہے جب یہاں بارشیں ہوتی ہیں۔ بعض لوگ گھروں کے نزدیک تالاب بناکر پانی ذخیرہ کردیتے ہیں تاکہ بعد میں استعمال کیا جاسکے۔
زیر زمین پانی مختلف سطحوں پر ملتا ہے جتنا پانی گہرا ہوگا اس میں نمکیات کی مقدار بھی زیادہ پائی جاتی ہے جس میں فلورائڈ کے علاوہ سنکھیا بھی شامل ہے جس کے باعث یہاں کے لوگوں کئی بیماریوں میں مبتلا رہتے ہیں اور اپنی عمر سے بڑے نظر آتے ہیں۔
انچاس لاکھ ایکڑرقبے پر پھیلے اس صحرائی ضلعے کے کئی علاقوں میں پانی کی ضرورت پوری کرنے کے لئے خواتین اور بچے روزانہ کم ازکم پانچ کلومیٹرطےکرکےتالاب یا کنویں سےپانی لینےجاتےہیں۔
تھر میں موسمی تبدیلیوں کے باعث بارشوں میں کمی نے یہاں قحط سالی کو جنم دیا ہے، جس کے باعث گزشتہ دو سالوں میں یہاں پرندوں، جانوروں اور بچوں کی اموات بھی سامنے آچکی ہیں۔

انچاس لاکھ ایکڑرقبے پر پھیلے اس صحرائی ضلعے کے کئی علاقوں میں پانی کی ضرورت پوری کرنے کے لئے خواتین اور بچے روزانہ کم ازکم پانچ کلومیٹرطےکرکےتالاب یا کنویں سےپانی لینےجاتےہیں 

انچاس لاکھ ایکڑرقبے پر پھیلے اس صحرائی ضلعے کے کئی علاقوں میں پانی کی ضرورت پوری کرنے کے لئے خواتین اور بچے روزانہ کم ازکم پانچ کلومیٹرطےکرکےتالاب یا کنویں سےپانی لینےجاتےہیں
حکومت سندھ نے خشک سالی سے بچنے کے لیے ضلعے میں شمسی توانائی پر 750 ریورس اوسموسز آراو پلانٹ لگا ئےہیں جو کھارے پانی کوفلٹرکرکےپینےکےقابل بناتے ہیں. لیکن بہترحکمت عملی نہ ہونےکی وجہ سےنصف سےزائد آراو پلانٹ چند مہینوں کے اندر ہی خراب ہو گئے ہیں.
چند ایک بستیوں بین الاقوامی فلاحی اداروں نےبارشوں کاپانی جمع کرنےکےلیےمقامی لوگوں کےمدد سے تالاب بنائے ہیں اورساتھ میں خودساختہ فلٹریشن پلانٹ لگائےہیں تاکہ پانی پینےکےلیےاستعمال کیاجاسکےمگرسینکڑوں گاؤں اور بستیاں ایسی بھی ہیں جہاں فلاحی ادارےابھی تک نہیں پہنچ سکے ہیں .
انچاس لاکھ ایکڑرقبے پر پھیلے اس صحرائی ضلعے کے کئی علاقوں میں پانی کی ضرورت پوری کرنے کے لئے خواتین اور بچے روزانہ کم ازکم پانچ کلومیٹرطےکرکےتالاب یا کنویں سےپانی لینےجاتےہیں
ہرییارکےرہائشی کھیت سنگھ کےمطابق پچھلے تین سالوں سےخشک سالی کی وجہ سے وہ ادھار گھرکےنظام کوچلارہےہیں جب خشک سالی ختم ہوگی اور فصلیں تیار ہوں گی تب یہ قرضہ اتاریں گے اگر یہ خشکسالی جاری رہتی ہے تو قرضےبڑھنےکااندیشہ ہے.”
کھیت سنگھ کا کہنا ہے کہ رواں سال سال جولائی میں بارشیں بہت ہوئیں مگربدقسمتی سےاسکےبعدبارش نہیں ہوئی،جس کیوجہ سےوہ خدشات میں مبتلا ہیں،کہ یہ سال بھی خشک سالی کےنظرنہ ہوجائے۔
ڈبیلو ڈبلیو ایف کی سینئر مئینجر شہزادی تنیو کا کہنا ہے کہ فصل نہ ہونے اور پانی کی عدم دستیابی کے باعث لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوجاتے ہیں، یہ لوگ زیادہ تر بدین، ٹھٹہ اور حیدرآباد سمیت دیگر علاقوں کا رخ کرتے ہیں۔ بقول ان کے موسمی تبدیلی کے باعث نہ صرف انسان بلکہ قدرتی وسائل اور حیاتی ماحول بھی متاثر ہوتا ہے
Read more at http://thenaturenews.com/ur/2015/09/%d8%aa%da%be%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%ae%d8%b4%da%a9-%d8%b3%d8%a7%d9%84%db%8c-%d8%ac%d8%a7%d8%b1%db%8c%d8%8c-%d9%82%d8%b1%d8%b6%db%92%d8%a8%da%91%da%be%d9%86%db%92%da%a9%d8%a7%d8%a7%d9%86%d8%af/#DCOHVIHEbeWw8xJL.99

وزیراعظم نواز شریف اور گلگت بلتستان کے دورے


آج  وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے گلگت بلتستان کا مختصر دورہ کیا اور عطااباد میں چین کے تعاون سے بنائے گئے عطااباد سرنگوں کا افتتاح کیا.
اس دورے کا بنیادی مقصد 9 جنوری 2010 میں زمین سرکنے کی وجہ سے دریا ہنزہ پر بنے والے عطااباد جهیل پر بنائے گئے سرنگوں کا افتتاح کرنا تها.

image

image

عطااباد گاوں  سرکنے کی وجہ سے سارا ملبہ  دریا ہنزہ  اور شاہراہ قراقرم  بند ہوگیا اور دیکھتے ہی دیکھتے چند دنوں میں دریا ہنزہ  نے ایک بہت بڑی جهیل کی شکل اختیار کی اور 27 کلومیٹر سے زیادہ  شاہراہ قراقرم  کا حصہ عطااباد جهیل میں ڈوب گیا. جس کی وجہ سے پاکستان کا ہمسایہ ملک چین سے زمینی راستہ منقطع ہو گیا تھا.. ہمسایہ

image

س

image

حکومت پاکستان نے ورلڈ بینک  اور چین کے تعاون سے عطااباد جهیل میں ڈوبے ہوئے شاہراہ قراقرم کے متبادل 27 کلومیٹر نئ سڑک جس میں 5سرنگ اور 2 پل شامل ہیں 5سال کے مختصر مدت میں مکمل کیا.
یہ.شاہراہ پاک چین راہداری میں ریڈ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے. مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ پاک چین اکنامک کوریڈور کے بنے کے بعد گلگت بلتستان کے عوام کو اس منصوبے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا. اس کی وجہ یہ ہیں کہ گلگت بلتستان میں منصوبے کے تحت کوئی کاروباری سرگرمیوں کے لئے  ڈرائی پورٹ نہیں بنایا جارہا ہے. یہاں کے عوام نے وفاقی حکومت سے اپیل کی ہے کہ ان کا معاشی قتل بند کیا جائے اور گلگت بلتستان میں شاہراہ قراقرم پر چین سے تجارت کرنے کے لیے ڈرائی پورٹ بنائے جائیں تاکہ یہاں کے مقامی تاجر چین سے اپنی حیثیت کے مطابق تجارت کر کے علاقے میں خوشحالی کا زریعہ بن سکے..
می

image

زر

image

انہوں نے پچھلے دورے میں سرینہ ہوٹل گلگت میں بیٹھ کر 18 میگاواٹ بجلی گهر نلتر کا افتتاح کیا.
وزیر اعظم نواز شریف  کے اعلانات ان کے دوروں کی طرح  صرف ایرپورٹ کے وی وی آئی پی لاونج اور سرینہ ہوٹل  تک محدود نہ ہو نگے  ان  پر عملدرآمد بھی ہوناچاہیے. اس مرتبہ پهر گلگت بلتستان کے اصل مطالبات یعنی آئنی صوبے کی ڈیمانڈ اور پاک چین راہداری میں گلگت بلتستان کا حصہ کی ڈیمانڈ کو پهر سے گول کر دیامیاں صاحب نے گلگت بلتستان کے عوام کو نئے خواب دیکھائے ..
نواز شریف نے وزیر اعظم بننے کے بعد جتنے بھی دورے کئے ہیں اس میں ایک انتخاب کے دوران والے دورے کے علاوہ باقی تمام دوروں میں مقامی صحافیوں اور ن لیگ کے جیالوں اور کارکنوں سے  ہمیشہ دور رہے ہیں. جس کی وجہ سے مقامی صحافیوں نے دو مرتبہ وزیراعظم نواز شریف کا دورہ گلگت کا بائیکاٹ کر کے مقامی اخبارات میں  3 دنوں تک مسلم لیگ کو میڈیا کوریج نہیں دی.